تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 331 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 331

۳۳۱ انصار اللہ ڈرگ روڈ کے مکان پر علمی مجالس کا انعقاد کیا گیا جن میں حضرت صاحبزادہ صاحب شریک ہوئے اور حاضرین سے دیر تک علمی تبادلہ خیالات فرمایا۔مذاکرہ علمیہ مورخہ ۵ جولائی بوقت ۴ بجے شام ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل کے شالا مار روم میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔جس میں صدر محترم نے تقریباً پینتالیس منٹ تک حاضرین سے اسلام کے مستقل، پر خطاب فرمایا۔آپ نے ثابت کیا کہ آج اسلام کا غالب آنا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق مہدی موعود کے ذریعہ ہی مقدر ہے۔اس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ دیر تک رہا۔یہ پروگرام بے حد دلچسپ اور مؤثر ثابت ہوا۔شیخو پورہ شہر میں ایک تربیتی اجتماع ۶ جولائی ۱۹۷۹ء بروز جمعہ مجلس انصاراللہ ضلع شیخو پورہ کا ایک تربیتی اجتماع منعقد ہو اجس میں شدید گرمی کے باوجود ساڑھے سات سو سے زائد حاضری تھی۔اس اجتماع میں مقامی و دیگر مجالس کے پانچ سواحمدیوں کے علاوہ اڑھائی سو غیر از جماعت افراد بھی شامل ہوئے۔مستورات کی تعداد اس کے علاوہ تھی۔صدر محترم نے اس اجتماع میں شرکت فرمائی۔آپ اسی روز بذریعہ جہاز کراچی سے لاہور پہنچے اور وہاں سے شیخو پورہ تشریف لائے۔نماز جمعہ سے قبل آپ نے عہدیداران سے ملاقات کی ، ان کے کاموں کا جائزہ لیا اور ہدایات دیں۔اس سے قبل مکرم ملک حبیب الرحمان صاحب قائد عمومی نے زعمائے مجالس کی کارکردگی کا مختصراً احاطہ کیا۔خطبہ جمعہ میں حضرت صاحبزادہ صاحب نے احباب جماعت کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔آپ نے فرمایا کہ احمدیوں کا دوسرے لوگوں سے ایک نمایاں فرق ہے اور یہ فرق ہمیشہ قائم رہنا چاہئے۔ہم میں بنی نوع انسان کی ہمدردی بدرجہ اتم موجود ہونی چاہئے کیونکہ ہم اپنے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔اس لئے ہماری رحمت اسی طرح وسیع ہونی چاہیئے جس طرح حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی۔حضور کی ہمدردی کسی نسل ، فرقہ ، مذہب اور رنگ کے امتیاز کے بغیر تھی۔اس لئے ہمارا مقصود بھی یہی ہونا چاہئیے۔خدا تعالیٰ کی رحمت بھی ان پر ہوتی ہے جو بنی نوع انسان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ساری دنیا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے اس لئے اگر ہم اس بات کو مد نظر رکھ کر بات کریں گے تو نتیجہ بھی وسیع ہوگا۔آپ نے فرمایا کہ موجودہ دور میں دنیا اور عالم اسلام کے لئے خصوصی دعا کی ضرورت ہے۔عالم اسلام سخت خطرات میں ہے۔پاکستان سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔اس لئے بھی دعاؤں کی ضرورت ہے۔اس