تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 326
۳۲۶ تیسرا اجلاس نماز تہجد و فجر کے بعد منعقد ہوا جس میں مکرم مولا نا غلام احمد صاحب فرخ نے درس قرآن کریم، مکرم مولوی محمد اشرف صاحب ناصر نے درس حدیث اور مکرم شریف احمد صاحب نے درس ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام دیا۔پھر ذکر حبیب“ کے موضوع پر مکرم قریشی عبدالرحمان صاحب نے تقریر فرمائی۔بعد ازاں مکرم امیر صاحب ضلع بدین نے خطاب فرمایا۔عہد انصار اللہ اور دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔اجتماع میں ضلع کی سو فیصد مجالس کے انصار نے شمولیت کی۔مقامی خدام نے خدمت کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔قیام وطعام کا انتظام تسلی بخش تھا۔یہ اس ضلع کا پہلا اجتماع تھا جو بفضلہ تعالیٰ بہت حد تک کامیاب رہا۔(۸) دورہ چونڈہ ۲۵ مئی ۱۹۷۹ء کی صبح صدر محترم چونڈہ کے لئے روانہ ہوئے۔آپ ربوہ سے سید ھے پسرور تشریف لے گئے۔مکرم رانا حبیب اللہ صاحب قائد خدام الاحمدیہ کے مکان پر مختصر قیام کے دوران آپ نے پسرور کے انصار اور دوسرے احباب جماعت سے ملاقات کے علاوہ مجلس کے کام کے متعلق ہدایات دیں نیز بعض غیر از جماعت دوستوں سے بھی گفتگو کی اور انہیں سنجیدگی کے ساتھ احمدیت سے متعلق تحقیق کی دعوت دی۔حلقہ چونڈہ کے انصار ۲۵ مئی ۱۹۷۹ء بروز جمعہ بیت الحمد چونڈہ میں جمع ہوئے۔صدر محترم نے جمعہ پڑھایا۔خطبہ جمعہ میں آپ نے سورہ فتح کی آیت مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِيْنَ مَعَةٌ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کی عظیم صفات حسنہ بیان کیں۔آپ نے فرمایا کہ آشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ سے مسلمانوں کے بعض علماء نختی یا تلوار کی نوک مراد لیتے ہیں حالانکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کفار کی ناپاک سوسائٹی سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہیں اور رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ سے مرادان کا منکسر المزاج ہونا اور نیک سوسائٹی کا اثر قبول کرنا ہے۔آپ نے نہایت عمدہ رنگ میں اس کا تقابلی جائزہ پیش کیا اور صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق و محبت اور اطاعت شعاری کے واقعات بیان فرما کر توجہ دلائی کہ جب تک ہم صحابہ کا رنگ اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش نہ کریں گے اور آشدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کا نمونہ نہ دکھا ئیں گے، اس وقت تک بات نہیں بنے گی۔آپ نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے حضرت خلیفہ امسیح الاول کی اطاعت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تو کل علی اللہ کی مثالیں بیان فرما ئیں اور دعاؤں پر مداومت اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائی۔باہمی جھگڑوں کو ختم کرنے کے لئے آپ نے صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد بچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلیل اختیار کرو پر عمل پیرا ہوں۔اور اطاعت کا وہ نمونہ دکھائیں جو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے یابَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ کہہ کر دکھایا تھا۔