تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 325
۳۲۵ فرما دے گا کیونکہ تبلیغ کوشش سے نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہے۔آخر میں آپ نے فرمایا کہ انصار اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔اپنے اندر تقویٰ پیدا کریں۔بنی نوع سے ہمدردی سے پیش آئیں۔ہمارا کام لوگوں سے پیار کرنا ہے خواہ وہ ہمیں کتنی ہی تکلیف دینے کی کوشش کرتے رہیں۔آپ نے نصیحت فرمائی کہ شجرہ طیبہ کی طرح بنو جس کا سایہ ہوتا ہے۔اپنی اور اولاد کی تربیت کی طرف خصوصی توجہ دیں۔خود بھی اور اولا د کوبھی دل لگا کر عبادت کی عادت ڈالیں۔قرآن کریم پڑھیں اور ترجمہ سیکھیں اور سکھائیں۔اس اجتماع میں مندرجہ ذیل مجالس کے ساتھ انصار نے شرکت کی۔چک سکندر ، اسماعیلیہ ، ڈھو، ڈنگہ، نصیرہ ، تہال ، سرائے عالمگیر، گجرات، کھوکھر غربی ، شیخ پور، شادیوال ﴿۷﴾ ضلع بدین کا تربیتی اجتماع مجالس ضلع بدین کا تربیتی اجتماع مورخہ ۴ مئی ۱۹۷۹ء بعد نماز جمعہ مسجد احمد یہ بدین میں زیر صدارت مکرم مولانا غلام احمد صاحب فرخ مرکزی نمائندہ ، تلاوت کلام پاک سے تین بجے شروع ہوا۔صاحب صدر نے عہد دہر وایا اور دعا کے بعد افتتاحی خطاب میں انصار اللہ کو ان کے مقام اور مرتبہ سے آگاہ کیا اور جماعتی فرائض کی طرف توجہ دلائی۔آپ کی تقریر کے بعد مکرم مولوی شریف احمد صاحب مربی سلسلہ بدین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بیان فرمائی۔پھر مکرم طاہر اقبال صاحب نے نظم پڑھی۔اس کے بعد مکرم قریشی عبدالرحمان صاحب نے صداقت مسیح موعود علیہ السلام اور مکرم مولوی محمد اشرف صاحب ناصر نے انصار اللہ کی ذمہ داریاں“ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔پھر تقریری مقابلہ ہوا جس میں گیارہ خدام وانصار نے حصہ لیا۔مکرم مولوی محمد اشرف صاحب ناصر، مکرم قریشی عبدالرحمان صاحب اور مکرم شریف احمد صاحب نے حج کے فرائض انجام دیئے۔یہ اجلاس چھ بجے اختتام پذیر ہوا۔دوسرا اجلاس پونے نو بجے شب زیر صدارت مکرم قریشی عبدالرحمان صاحب ناظم اعلیٰ صوبہ سندھ منعقد ہوا۔تلاوت قرآن کریم کے بعد مکرم کرنل محمد حیات صاحب نے تربیت اولا د اور نوجوانوں کی اصلاح کے موضوع پر تقریر کی جو بڑی دلچسپی سے سنی گئی۔مکرم قریشی عبدالرحمان صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فارسی منظوم کلام سنایا پھر مکرم مولانا غلام احمد صاحب فرخ نے اسلام کا عالمگیر غلبہ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔ازاں بعد مجالس کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لئے نقطۂ آغاز معین کر کے کام کرنے کی تلقین کی گئی۔بہتر کام کرنے والی مجالس کی حوصلہ افزائی کی گئی۔اس اجلاس میں جملہ شرکاء تقریری مقابلہ کو انعامات دیئے گئے۔اس اجلاس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تین تقاریر سندھی زبان میں کی گئیں۔یہ اجلاس ساڑھے دس بجے شب ختم ہوا۔