تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 313 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 313

۳۱۳ میں نمایاں حصہ لیا ہے۔اس کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ تاجرانہ ذہنیت سے بالکل پاک ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی افادیت کے مطابق اس کی اشاعت میں غیر معمولی برکت نازل فرمائے۔(۵) توسیع اشاعت ماہنامہ انصار اللہ کا آغاز حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے زمانہ صدارت میں ۱۹۶۰ء میں ہوا تھا۔اس ماہنامہ کے اجراء کے وقت صدر مجلس نے جو پالیسی وضع فرمائی تھی ماہنامہ انہی لائنوں پر عمل پیرا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس رسالہ نے اپنی علمی اور تربیتی ذمہ داری کو احسن رنگ میں پورا کیا اور آئندہ کے لئے اس کوشش میں رواں دواں ہے۔اس رسالہ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کوئی اشتہار شائع نہیں کیا جاتا۔اشتہارات کو عام طور پر رسائل کا ایک بہت بڑا ذریعہ آمدنی سمجھا جاتا ہے۔محترم صدر صاحب کے نزدیک خالص دینی مطالعہ کے دوران اچانک کسی دنیاوی اشتہار پر نظر توجہ کو ہٹانے کے مترادف تھی۔بعد میں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو منصب خلافت پر فائز فرمایا تو حضور کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کی خاطر دوسرے جماعتی رسائل کی طرح ماہنامہ انصار اللہ میں بھی اشتہارات شائع کرنے کی اجازت عطا فرمائی جائے تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنے دست مبارک سے تحریر فرمایا ہرگز نہیں“۔۱۹۷۹ء کے شروع میں رسالہ کی سرکولیشن بہت کم تھی۔سال نو کے آغاز پر سب سے پہلے ماہنامہ کی اشاعت کو وسیع کرنے کی مہم چلائی گئی تاکہ زیادہ سرکولیشن کے نتیجے میں اخراجات کا بار کم ہو۔صدر مجلس حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے اشاعت بڑھانے کا خاص پروگرام دفتر کو دیا نیز رسالہ کی انتظامیہ (MANAGEMENT) میں بھی تبدیلی فرمائی۔منیجر کو اپنی ہدایات سے نوازا اور رسالہ کی خریداری کو معیاری بنانے کی تلقین فرمائی۔روز نامہ الفضل“ اور ماہنامہ انصار اللہ میں انصار کو خریداری قبول کرنے کے لئے اعلانات شائع کئے گئے۔عہدیداران کو خطوط کے ذریعہ متحرک کیا گیا۔پاکستان کے علاوہ بیرونی ممالک میں بھی خریداری کے لئے خاص توجہ دی گئی۔مبلغین سے بھی تعاون کی درخواست کی گئی۔بیرونی مشنز سے احباب کی فہرستیں منگوا کر براہ راست خطوط لکھے گئے۔ان خصوصی کوششوں کے نتیجہ میں بیرون پاکستان خریداروں کی تعداد اڑھائی صد تک ہوگئی۔توسیع اشاعت کے لئے جو مختلف طریق کار اختیار کئے گئے ، ان میں سے ایک طریق مربیان کرام کا تعاون حاصل کرنا بھی تھا۔بعض خاص مقامات کے مربیان کی خدمت میں صدر محترم کی طرف سے تحریک کی گئی کہ رسالہ کی خریداری کے لئے اپنے اپنے حلقوں میں کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ نے اس طریق میں بڑی برکت بخشی۔