تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 280
۲۸۰ وضاحت: قاعدہ نمبر ۲۱ کے مطابق صحابہ کرام شوری کے رکن ہیں لیکن قاعد ۴۲۰ میں صحابہ کرام شامل نہیں۔صدر مجلس: سب کمیٹی کی رپورٹ منظور ہے۔(ج) دستور اساسی کے قاعدہ نمبر ۱۶۹ میں ارکان کو“ کے بعد تین سال کے لئے“ کے الفاظ بڑھائے جائیں۔وضاحت: ملک / علاقہ ضلع اور حلقہ جات کی مجالس عاملہ کے اراکین کی میعاد کا تعین کیا گیا ہے۔بالترتیب قاعدہ نمبر ۱۴۲، ۱۵۹ ۸۴ الیکن مقام کے اراکین کی میعاد مقر ر ہیں۔اس لئے اس ترمیم کے ذریعہ مقرر کی جائے۔سفارش صدر مجلس: سب کمیٹی کی رپورٹ منظور ہے سفارشات مجلس شوری ۱۹۸۰ء تجویز نمبرا ( قیادت عمومی): قاعدہ نمبر ۱۶۵ میں امیر مقامی یا پریذیڈنٹ سے پہلے ناظم ضلع کے الفاظ بڑھا دیئے جائیں۔اس طرح قاعدہ کی نئی شکل درج ذیل ہوگی۔عیم اعلی کا انتخاب ناظم ضلع / امیر مقامی / پریذیڈنٹ یا ان کے نمائندے کی نگرانی میں ہوگا۔جس میں مقام کے جملہ اراکین مجلس شامل ہوں گے۔کو رم ۱/۲ ہوگا۔اگر ایک بار اجلاس بلانے پر کورم پورا نہ ہو تو دوسری بار کورم ۳/ ۱ ہوگا۔انتخاب کے لئے اشار تا یا وضا حنا پراپیگنڈا کی اجازت نہ ہوگی۔منتخب شدہ نام منظوری کے لئے صدر مجلس کے پاس بھجوایا جائے۔“ ( مجلس انصار اللہ ڈرگ روڈ کراچی ) سفارش شوری: یہ معاملہ چونکہ غور طلب ہے۔یہاں اتنی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں اس لئے اگر سب کو اتفاق ہو تو ایک کمیٹی بنادی جائے جو اس معاملہ ہر غور کر کے اپنی رپورٹ دے اور آئندہ سال کی مجلس شوری میں اسے پیش کیا جائے۔تمام ممبران شوری نے اتفاق کیا۔سفارش صدر مجلس ممبران کمیٹی بڑے شہروں سے تو بہر حال لئے جائیں لیکن زیادہ دور والے نہ ہوں تا کہ رابطہ میں آسانی ہو۔اس کمیٹی کا ایک اجلاس اس پروگرام کے بعد ابھی ہو جانا چاہیے۔اس میں بیرونی ممالک کے نمائندگان کو بھی شامل کر لیا جائے تا کہ وہ بھی اپنے اپنے ملک کے حالات کے مطابق اپنی رائے کا اظہار کرسکیں۔بنگلہ دیش ،مغربی جرمنی اور دبئی کے نمائندگان کو بھی اس کمیٹی میں شامل کر لیا جائے۔کمیٹی کے صدرمکرم چوہدری حمید اللہ صاحب اور سیکرٹری مکرم مسعود احمد صاحب جہلمی ہوں گے۔تجویز نمبر ۲ ( شعبه مال): زعیم مجلس کے علاوہ انسپکٹر انصار اللہ متعلقہ کو بھی ذمہ دار بنایا جائے کہ وہ ہر تین ماہ کے بعد ہر مجلس میں جائیں اور نادہندگان سے چندہ جات کی وصولی کریں۔اگر وصولی نہ ہو تو نادہندگان