تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 275
۲۷۵ مجلس شوریٰ انصار اللہ مرکزیہ مجلس شوریٰ انصار اللہ کے بنیادی تصور و تعلیم ، اہمیت، مقام و مرتبہ، فرائض، ایجنڈا کی تیاری نمائندگی اور فیصلہ کے طریق کے بارہ میں تفصیلی نوٹ تاریخ انصار اللہ جلد اول ( صفحہ ۱۵۴ اور صفحہ ۱۵۵) میں آچکا ہے۔مجلس شوری کی تمام سفارشات کثرت رائے سے مرتب کی جاتی ہیں لیکن صدر مجلس کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کثرت رائے کو رڈ کر دیں اور اس فیصلہ کی مجلس شوری کے سامنے وضاحت کریں۔مجلس شوری کی سفارشات صدر مجلس اپنی رائے کے ساتھ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح کو یہ حق حاصل ہے کہ جس سفارش کو پسند کریں، منظور فرما لیں اور جس کو چاہیں رڈ کر دیں یا اس میں ترمیم فرما دیں۔حضرت خلیفہ اسیح کی منظوری کے بعد ہی شوری کی سفارشات نافذ ہوتی ہیں۔ہر سال سالانہ اجتماع کے موقع پر ایک یا دو دن کے لئے مجلس شوری منعقد ہوتی رہی۔۱۹۸۳ء کے اجتماع تک اس طریق پر عمل ہوتا رہا۔۱۹۸۴ء سے ملکی حالات کی بناء پر مرکزی اجتماع منعقد نہ ہو سکے۔لہذا شوریٰ انصار اللہ کا انعقاد بھی ناممکن ہو گیا۔اس خلا کو کسی حد تک پورا کرنے کے لئے ۱۹۸۵ء سے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی منظوری سے مرکز میں محمد و دشوری کا سلسلہ جاری کیا گیا۔ابتداء میں مرکزی قائدین کے علاوہ ناظمین اضلاع و علاقہ اور چند زعمائے اعلیٰ کو شمولیت کی دعوت دی جاتی تھی تاہم بعد میں میں سے زائد انصار والی مجالس کے زعماء کو بھی شامل کر لیا گیا۔ان مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عہدیداران کا اجلاس بھی منعقد کیا جاتا رہا جس میں صدر مجلس اور مرکزی عاملہ ہدایات دیتے۔۱۹۷۹ء سے ۱۹۸۱ء تک جو فیصلہ جات شوریٰ انصار اللہ میں ہوئے ہیں۔ان کی تفصیل اگلے صفحات میں سن وار پیش کی جائے گی۔سفارشات مجلس شوری ۱۹۷۹ء تجویز نمبرا ( قیادت عمومی: زعیم علی ربوہ کو مجلس عاملہ مرکز یہ کارکن مقرر کیا جائے اور آئندہ سے ان کا عہدہ زعیم اعلیٰ کی بجائے قائد مقامی ہو۔اسے دستور اساسی کے قاعدہ نمبر ۲۶ کے بعد اس قاعدہ کا جز (ب) بنا کر یوں درج کیا جائے۔ربوہ میں بجائے زعیم اعلیٰ کے قائد مقامی ہوگا۔جس کو صدرنا مزد کرے گا۔اس کے اختیارات وہی ہوں گے جو دوسری مجالس میں زعیم اعلیٰ کے ہوں گے۔“ اسی طرح دستور اساسی کے قواعد نمبر