تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 276 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 276

۱۳۵، ۱۳۶ میں قائد تحریک جدید کے بعد قائد مقامی کا اضافہ کر دیا جائے۔( مجلس عاملہ مرکزیہ ) سفارش شوری: اصولاً تجویز سے اتفاق ہے۔البتہ الفاظ حسب ذیل ہوں جو دستور اساسی انصار اللہ کے قاعدہ نمبر ۱۶۴ کے آگے درج کر دیئے جائیں گے۔ربوہ کے زعیم اعلیٰ کوصدر مجلس انصاراللہ نامزد کریں گے اور وہ 66 مجلس عاملہ مرکزیہ کے مہر ہوں گے۔" فیصلہ حضرت خلیفہ اصبح : ”منظور ہے۔“ اسیح: تجویز نمبر ۲: مجلس شوری دستور اساسی کے قاعدہ نمبر ۴۳ میں ہے کہ " مجلس شوری کا فیصلہ صدر کی منظوری کے بعد تمام مجالس کے لئے واجب التعمیل ہوگا۔اس میں صدر کے الفاظ کی بجائے خلیفہ وقت“ کے الفاظ ہونے چاہئیں۔( مجلس عاملہ مرکزیہ ) تجویز نمبر ۳ ( انتخاب صدر ) : قاعد ۹۲۰ میں حسب ضرورت کے الفاظ مناسب نہیں۔اس قاعدہ میں ترمیم کر کے اس کے الفاظ حسب ذیل کر دیے جائیں۔انتخاب صدر کے لئے مجلس مقامی سے نام منگوائے جائیں گے۔انتخاب سے ایک ماہ قبل جس قدر نام موصول ہوں گے۔مجلس عاملہ مرکز یہ ان پر غور کے بعد جن ناموں کا انتخاب کے لئے پیش کرنا مناسب سمجھے، انہیں مجالس ماتحت کو بھجوا دے گی جو صدارت کے لئے ان میں سے ایک نام کا انتخاب کریں گی اور اپنے نمائندگان شوری کو ہدایت کریں گی کہ وہ شوری انصار اللہ میں انتخاب صدر کے موقع پر اس کے حق میں ووٹ دیں۔“ ( مجلس عاملہ مرکزیہ ) تجویز نمبر ( انتخاب ناظم ضلع ): ( قاعدہ نمبر ۱۵۲ میں ناظم ضلع کا انتخاب امیر مقامی ، پریذیڈنٹ یا ان کے نمائندہ کی نگرانی میں ہوگا جس میں ماتحت مجالس شریک ہوں گی“ کی بجائے یہ الفاظ ہوں گے۔ناظم ضلع کا انتخاب مرکز کی نگرانی میں ہوگا جس میں مجلس عامہ ضلع میں شامل مجالس کے زعماء اعلیٰ۔زعماء اور نمائندگان شوریٰ انصار اللہ شریک ہوں گے۔“ وضاحت: قاعدہ نمبر ۵۳ اور نمبر ۱۵۲ میں تضاد ہے اس لئے یہ ترمیم ضروری ہے تا کہ دونوں قواعد میں مطابقت ہو جائے۔(ب) قاعدہ نمبر ۴۲ میں مجلس عاملہ مرکزیہ کے اراکین کے بعد صحابہ کرام کے الفاظ بڑھائے جائیں۔وضاحت: قاعدہ نمبر ۲۱ کے مطابق صحابہ کرام شوری کے رکن ہیں۔لیکن قاعدہ نمبر ۴۲ میں صحابہ کرام شامل نہیں۔