تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 217
۲۱۷ ہے یہ ترجمہ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو یہ کہتے ہیں میں تو کسی اجر کا متقاضی نہیں۔میرا اجر خدا پر ہے۔میری اولاد کا اجر بھی خدا پر ہے۔ان کو تو آپ نے ہمیشہ کے لئے صدقوں سے باز رہنے کا حکم دے دیا۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پھر یہ ترجمہ کیا جائے کہ آپ میری اولاد کو پیسے دے دیا کرو، مجھے نہ دیا کرو۔یہ میرا اجر ہے۔نعوذ باللہ من ذلک۔اصل کیا پیغام ہے۔وہ پیغام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے ہم پر کھولا اور معرفت کا ایک دریا بہا دیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے یہ تشریح فرمائی کہ انتَائِ ذِی القربی سے مراد یہ ہے کہ دو خدا کو لیکن اس طرح نہ دینا گویا کہ نعوذ باللہ کوئی احسان ہو رہا ہے اور تمہارے دل میں اس سے کوئی بڑائی پیدا ہو کہ ہم نے دے دیا ہے۔اس طرح دینا جس طرح بہت قریبی اپنے قریبیوں کو دیا کرتے ہیں جیسے مثلاً ماں اپنے بچہ کو دیتی ہے۔ماں جب بچہ کو کچھ دیتی ہے اور بچہ آگے سے نخرہ کرتا ہے اور نہیں لیتا تو کیاماں یہ بجھتی ہے کہ شکر ہے پیسے بچ گئے۔آرام آ گیا ، چلو اس نے نہیں کھایا، جائے جہنم میں۔میری روٹی بچ گئی۔ماں کا دل تو کٹ جاتا ہے،اس کی تو اپنی بھوک مرجاتی ہے۔وہ کہتی ہے میرے بچہ نے آج نہیں کھایا۔میں کیا کروں۔کہاں جاؤں۔کس حکیم کا دروازہ کھٹکھٹاؤں کہ میرے بچہ کا معدہ ٹھیک ہو جائے اور مجھ پر بوجھ ڈالے۔مانگنے والا بچہ اسے زیادہ پیارا لگتا ہے۔پس اِيْتَائِ ذِي الْقُرْبى میں انسان اس طرح دیتا ہے کہ اگر قبول نہ ہو تو روتا ہوا واپس آتا ہے۔قبول ہو جائے تو کھلکھلاتا ہوا ، اچھلتا کودتا ہوا واپس آتا ہے کہ الحمدللہ قبول ہو گیا۔خدا کے حضور تو صرف پاک وصاف پہنچے گا غرض حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا نے جو معرفت کا ایک عظیم الشان نکتہ دیا تھا، الحمد للہ کہ آپ کے غلام نے آکر وہ نکتہ کھولا تو اس میں سے معرفت کا ایک سمندر نکل آیا۔یہ مراد ہے کہ آپ یہ بھی سکھائیں کہ چونکہ آپ نے خدا کو دینا ہے اس لئے خدا کے حضور تو صرف پاک وصاف پہنچے گا۔اور آپ نے اس طرح دینا ہے کہ جب نا مقبول ہو تب آپ روئیں۔اس بات پر نہ روئیں کہ زیادہ مانگا جا رہا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اسکی مثال دے کر ایتائِ ذِي الْقُرْبی کے مضمون کو خود کھول دیا۔فرماتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور ایسے لوگ پہنچے جو غریب اور بے کس تھے اور جن کے پاس مال دینے کے لئے کچھ نہیں تھا۔انہوں نے کہا ہماری جانیں پیش ہیں۔اے خدا! تو وہ جان قبول کر لے جو تو نے ہمیں عطا کی ہے۔جو چیز تو نے عطا کی ہے وہی ہم دے سکتے ہیں۔ہمارے پاس مال کوئی نہیں۔اور اُن کی جانیں قبول کرنے کے لئے بھی اسلام کو مال کی ضرورت تھی مثلا سواریاں۔ہتھیار وغیرہ جن کو آگے بھیجوانا تھا۔خدا گواہی دیتا ہے وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ