تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 216 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 216

۲۱۶ اضلاع تو اتنے کمزور ہیں خدا تعالیٰ کے سامنے صحیح صورت حال پیش کرنے میں۔خدا تعالیٰ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ چندہ تو وہ نہ مجھے دیتے ہیں نہ انصار اللہ کے انسپکٹر کو دیتے ہیں۔نہ خلیفہ ایسیج کو دیتے ہیں۔احمدی کا چندہ تو سارے کا سارا خالصتہ اللہ ہے۔کوئی بھی درمیان میں اور وجود حائل نہیں۔یہ حض واسطے ہیں۔یہ کارکنان سلسلہ تو آپ کو تحریک کر کے خود بھی ثواب میں شامل ہو جاتے ہیں۔اس سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں۔وہ خادم ہیں۔جس طرح گورنمنٹ کے محصل ہوتے ہیں ، وہ اپنی جیب میں تو چندہ نہیں ڈال سکتے۔ان کے نام پر کب کوئی چندہ دیا کرتا ہے۔اگر گورنمنٹ کسی پٹواری سے اپنا سایہ اُٹھالے تو وہ ناجائز تو الگ رہا، جائز بھی آپ سے نہیں لے سکتا۔اس لئے کہ اس کا اختیار ختم ہو گیا۔تو دیتے آپ کس کو ہیں؟ جب تک آپ اس بات کو مد نظر نہیں رکھیں گے ، اُس وقت تک مالی امور کی اصلاح ہو ہی نہیں سکتی۔پس پہلی اصلاح نیت کی صفائی اور پاکیزگی ہے۔کثرت کے ساتھ اس پیغام کو بار بار دوہرائیں اور نہ شرمائیں اس بات کی تکرار میں۔بات یہ ہے کہ قرآن کریم میں مالی اور جانی قربانی کی اتنی تکرار پائی جاتی ہے کہ اسے دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا غیور انسان کہ کائنات میں اُس جیسا کوئی انسان پیدا نہیں ہوا۔آپ کے منہ سے خدا نے اتنا سوال کروایا ہے، اتنا منگوایا ہے کہ دنیا میں کسی مانگنے والے نے کبھی اس طرح مختلف اداؤں کے ساتھ، مختلف طریق سے دنیا سے نہیں مانگا ہوگا کہ خدا کے لئے ، اپنے لئے نہیں۔اپنے لئے تو آپ قرمایا کرتے تھے ، میں کوئی اجر تم سے نہیں چاہتا۔اللہ کے لئے دو اور اس طرح دو جس طرح ايتاي ذی القربی ہوتی ہے۔چندہ کی اصل روح یہ ہے چندہ کی روح۔اس روح کو جب تک ہم لوگوں پر پوری طرح کھول نہیں دیتے ، اس وقت تک نہ بجٹ ٹھیک ہو سکتے ہیں، نہ چندوں میں برکت پڑسکتی ہے۔نہ اصلاح احوال ہو سکتی ہے، نہ کسی دینے والے کو اس کا ثواب ملے گا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی یہ راز ہمیں سکھا دیا کہ دینا ہے تو کس طرح دینا ہے۔حضور نے یہ جو فر مایا کہ مرا تم پر کوئی اجر نہیں ہے تو جب اس کے بعد انتَائِ ذی القربی کہا تو لازماً یہ مطلب نکلے گا کہ حضور اپنی ذات کو جب مستی کر بیٹھے ہیں تو اپنا اجر اپنے بچوں کو کس طرح دلوا سکتے ہیں۔اپنے قریبیوں کو کس طرح دلوا سکتے ہیں۔یہ تو اس طرح کی بات ہے جیسا کوئی پیسے لینے والا کہتا ہے مجھے نہ دو، میرے کلرک کو دے دو۔یہ ممکن ہی نہیں ہے۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کے خلاف