تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 209
۲۰۹ خطاب فرماتا ہے۔ہماری طرف سے نوٹ ہو کر چھپے گا، وہ الگ بات ہے۔پہلے تو اپنے دل پر نقش کریں۔جن کے پاس کاغذ پنسل ہے، وہ اس کا خلاصہ نوٹ کریں اور اپنا امتحان لیں کہ واپس جا کرکس حد تک جماعتوں کو وہ پیغام من وعن پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔جب وہ چھپی ہوئی رپورٹ ملے گی تو پھر جائزہ لیں کہ کہیں دو پیسے مل گئے“ کا پیغام تو نہیں پہنچایا۔صحیح پیغام پہنچانا محنت کا کام ہے اس کے لئے ذہن کو تربیت دینی پڑتی ہے۔اس لئے اس کا آغاز اس طرح ہوگا کہ حضرت خلیفہ اسیح کی یہ تقریر جس میں حضور انصار، خدام کو ہدایات جاری فرمائیں گے، تمام عہدیداران ( صرف ناظمین اضلاع پیش نظر نہیں ہیں) ان کو ذہن میں مستحضر کرتے چلے جائیں اور بعد میں ذہنی جگالی کریں کہ کتنی تقریر ہمیں یاد رہی اور اس تقریر میں کتنے پیغام تھے اور پھر ان کو ان سب مجالس تک پہنچائیں جو خواہ حاضر ہوئی ہوں یا نہ ہوئی ہوں اور ہر ایک یہ کام کرے۔یہ ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔امید ہے اس پر انشاء اللہ تعالیٰ پیغام رسانی کا بہت نیک آغا ز ہمارے ہاں شروع ہو جائے گا۔تو دیکھا یہ گیا ہے کہ پیغام رسانی میں ابھی ہم بہت کمزور ہیں۔چنانچہ جس طرح ایک زمیندار کرتا ہے کہ ایک طرف سے کھالے (نالی) میں پانی چلاتا ہے، پھر جا کے دیکھتا بھی ہے کہ پانی کھیت میں پہنچا بھی ہے کہ نہیں ، اس طرح مجلس مرکز یہ بھی کرتی رہتی ہے۔ہدایتیں جاری کر کے صرف ہدایت دینے پر بناء نہیں کر بیٹھتی۔مجالس میں جا کر دیکھتی ہے کہ پانی کا کوئی قطرہ پہنچا بھی ہے کہ نہیں۔لیکن میں نے پیچھے جو دورے کئے ہیں، اس لحاظ سے اس کی رپورٹ تو بڑی افسوسناک ہے۔کئی ہدا یتیں بڑی اچھی طرح سمجھائی گئیں ،لکھائی گئیں۔جب مقامی مجالس سے پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ ان کو کوئی اطلاع ہی نہیں پہنچی تھی خبر ہی کوئی نہیں تھی اس لئے میں نے سوچا کہ میں بعض باتیں یہاں آپ کے سامنے کروں تا کہ آپ سب کو معلوم ہو کہ ہم کس نہج پر رپورٹوں کا کام چاہتے ہیں اور کس طرح رپورٹیں بنتی ہیں اور آئندہ کس طرح بنیں گی۔جو رپورٹ فارم مجلس نے تیار کروایا ، اس پر وقتاً فوقتاً نظر ثانی ہوتی رہتی ہے۔لیکن جب آپ دیکھیں گے تو اس بات سے اتفاق کریں گے کہ وہ بہت ہی مشکل ہے۔ہر شعبہ سے اتنی توقعات وابستہ کی گئی ہیں کہ اگر فل ٹائم (FULL TIME) زعیم انصار اللہ بھی ہو یعنی اس کام کے لئے اس کی زندگی وقف ہو، تب بھی بمشکل حق ادا کر سکتا ہے۔اس کے حل کے طور پر مشورہ ہوا کہ اس کو آسان کر دیا جائے۔تھوڑا کر دیا جائے۔مگر کس کو کاٹیں، کس کو چھوڑیں؟ جب انسان چھری چلاتا ہے ،اس وقت پتہ چلتا ہے کہ کتنا مشکل کام ہے۔ہر شعبے میں ہر اندراج، اہم اندراج ہے اور اسے چھوڑا بھی نہیں