تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 200
۲۰۰ معیار یہ ہے کہ حضرت اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تقریر کے موقع پر جو زیادہ سے زیادہ حاضری ہوتی ہے، اگر اس کا موازنہ عام تقریروں کی حاضری سے کیا جائے تو پھر پتہ چلتا ہے کہ کس حد تک ذمہ داری کے احساس کے کچھ نہ کچھ پالینے کی خواہش لوگوں میں پائی جاتی ہے۔حضور کی تقریر پر تو کشاں کشاں ہر احمدی چلا ہی آتا ہے۔اس کا کوئی بھی معیار ہو، وہ یہ برداشت ہی نہیں کر سکتا کہ گھر میں بیٹھا ہوا ہو اور حضور کی تقریر ہو رہی ہو۔لیکن وہ کشش، جو بے پناہ کشش اللہ تعالی نے خلافت کو عطا فرمائی ہوئی ہے، وہ وقتی طور پر نہ رہی ہو، عام مقررین غریب میرے جیسے، کوئی خاص کمال کسی قسم کا نصیب نہ ہو ان کو۔بظاہر یا حقیقت میں جو بھی شکل ہو۔اس پر لوگوں کا تشریف لے آنا ،صبر کے ساتھ بیٹھے رہنا ایک غیر معمولی زندگی کی علامت ہے۔خالصہ اللہ وقف کرنے والے لوگ ہی ایسا کر سکتے ہیں۔حیرت انگیز وفا کا نمونہ اتنی حیرت انگیز وفا کانمونہ دکھایا ہے انصار نے کہ اس نظارے سے دل عش عشق کر اُٹھتا تھا اور بے اختیار دل سے دعائیں نکلتی تھیں۔بعض معمر بزرگ استی، اسی سال کے دس دس گھنٹے مسلسل بیٹھے ہیں۔ان میں ایسے بھی تھے جو علم و فضل کے لحاظ سے ایک خاص مقام پر ہیں اور عام روز مرہ کی تقریر میں سننے سے ان کو کوئی خاص علمی فائدہ نہیں پہنچتا تھا۔جانتے تھے ان باتوں کو مثلاً حضرت مرزا عبدالحق صاحب حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تمام کتب بار بار پڑھ چکے ہیں۔تو اس لالچ میں تو نہیں بیٹھتے تھے کہ مجھے کوئی چیزنی ملے ،نئی بھی ملتی ہے ضرور ہر انسان کو کچھ نہ کچھ مگر محض ایک وفا کا تقاضا تھا۔ایک اطاعت کا تقاضا تھا کہ خدا کے نام پر جو مجلس اکٹھی ہوئی ہے اس میں بیٹھ کر برکت حاصل کرنی ہے۔صبح کی تہجد کی حاضری بھی خدا کے فضل سے بہت ہی خوش کن تھی۔نیک عادات کو دوام بخشیں اس اظہار تشکر کے بعد میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس عادت کو دوام بخشیں اپنی اگلی نسلوں میں۔جو قابل فکر بات ہے ، وہ یہ ہے کہ ہماری اگلی نسلیں دینی مجالس کی اہمیت سے اس طرح واقف نہیں ہیں جس طرح یہ نسل جو اس وقت سامنے بیٹھی ہوئی ہے۔اس کا نتیجہ ایک بہت ہی تکلیف دہ نظارے کی شکل میں ہمیں جلسہ سالانہ کے موقع پر نظر آتا ہے کہ سلسلہ کے مقررین بڑی محنت سے تقریریں تیار کرتے ہیں۔ان میں اگر بیٹھے ہوئے کوئی انسان ساری تقاریر کوسن لے تو ایک بدلی ہوئی شکل لے کر وہاں سے نکلے گا لیکن بھاری تعداد نو جوانوں کی نئی نسلوں کی باہر پھر رہی ہوتی ہے بازاروں میں میلوں کی طرح۔اپنے وقت کو ضائع کر رہی ہوتی ہے اور صرف ایک دو تقریروں پر انہوں نے نشان لگائے ہوتے ہیں جو