تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 183
۱۸۳ حقیقۃ الوحی“ میں آپ فرماتے ہیں : غرض اس حصہ کثیر وحی الہی اور اُمور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔اُن کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرتِ وحی اور کثرتِ امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط اُن میں پائی نہیں جاتی اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا تا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی صفائی سے پوری ہو جاتی کیونکہ اگر دوسرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں وہ بھی اس قدر مکالمه ومخاطبہ الہی اور امور غیبیہ سے حصہ پالیتے تو وہ نبی کہلانے کے مستحق ہو جاتے تو اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں ایک رخنہ واقع ہو جاتا۔اس لئے خدا تعالیٰ کی مصلحت نے ان بزرگوں کو اس نعمت کو پورے طور پر پانے سے روک دیا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۰۶-۴۰۷) ہی ہوگا۔“ ایسا شخص کون؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق جو نبی نہیں ، امتی نبی ہے۔یہ یاد رکھیں۔آپ نے کہا ہے کہ مجھے کبھی خالی نبی نہ کہا کرو۔امتی نبی کہا کرو جیسا کہ میں نے ابھی بتایا نبی کے معنی امتی نبی کے معنی سے بالکل مختلف ہیں۔اگر ہم نبی کہیں تو نعوذ باللہ یہ کہہ رہے ہوں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمام روحانی مدارج بغیر اتباع وحی قر آنی کے حاصل کئے۔یہ بات بالکل غلط ہے۔آپ تو بدعات کو مٹا کر خالص اسلام قائم کرنے کے لئے ، ان راہوں کو روشن کرنے کے لئے آئے تھے جن راہوں پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوش ہمیں نظر آتے ہیں۔مجدد، امام، مسیح، خلیفہ یہ لفظ ہم استعمال کرتے ہیں۔ان کے متعلق ہر ایک کا ذکر کر کے آپ نے فرمایا ہے کہ میں آخری ہوں۔چنانچہ لیکچر لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” تب سخت لڑائی کے بعد جو ایک روحانی لڑائی ہے ،خدا کے مسیح کو فتح ہوگی اور شیطانی قوتیں ہلاک ہو جائیں گی اور ایک مدت تک خدا کا جلال اور عظمت اور پاکیزگی اور تو حید زمین پر پھیلتی جائے گی اور وہ مدت پورا ہزار برس ہے جو ساتواں دن کہلاتا ہے۔بعد اس کے دُنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔سو وہ مسیح میں ہوں۔(لیکچر لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۷۹) 66