تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 175 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 175

۱۷۵ پندرھویں صدی کا پہلا سالانہ اجتماع چوبیسواں سالانہ اجتماع ۳۰ اکتوبر تا یکم نومبر ۱۹۸۱ ء اپنی مخصوص روحانی اور پاکیزہ روایات کے ساتھ تین دن جاری رہ کر اور ترقی کے گراف کو بلند سے بلند تر کرتے ہوئے ، کامیابیوں اور کامرانیوں کے نئے ریکارڈ کے ساتھ بخیر و خوبی انجام پذیر ہوا۔اس بابرکت اجتماع کے دوران اللہ تعالیٰ کا خاص احسان رہا کہ ہمارے پیارے آقا نے باوجود اس کے کہ حضور کی طبیعت کچھ روز سے ناساز رہی تھی۔رُوح پر ور افتتاحی اور اختتامی خطابات سے نواز اور دل ودماغ کو جلا عطا کرنے والے زندگی بخش ارشادات سے اپنے خدام کو سرفراز فرمایا۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اجتماعات میں مجالس کی نمائندگی کولازمی قرار دیا تھا۔حضور کے اس پیغام کا جماعتوں اور مجالس میں پہنچنا تھا کہ ہر طرف ہل چل، سرگرمی اور زندگی کی ایک نئی لہر نظر آنے لگی اور پورے ملک سے اطلاعات موصول ہونے لگیں کہ مجالس انصار اللہ اپنے اپنے نمائندگان منتخب کر کے بھجوا رہی ہے۔سابقہ سالوں میں تو یہی معمول تھا کہ دو اڑھائی صد مجالس کی طرف سے اجتماع سے قبل نمائندگان کی اطلاع موصول ہو جاتی تو اسے بہت ہی بڑی کامیابی سمجھا جاتا تھا لیکن امسال حضور کے ارشاد کے بعد اجتماع سے قبل چھ صد مجالس نے اپنے نمائندگان کے نام صدر محترم کی خدمت میں بھجوا دئیے۔ٹیچہ کل ۸۵۲ مجالس سے با قاعدہ نمائندوں کی تعداد ۳۱۶ اتھی جس نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے۔تمام مجالس کی نمائندگی کے علاوہ یہ تحریک بھی کی گئی تھی کہ ہر مجلس سے زیادہ سے زیادہ انصار شریک ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سلسلہ میں بھی پیارے آقا کی آواز پر لبیک کہنے والے جوق در جوق مرکز پہنچے اور اس کثرت سے پہنچے کہ منتظمین کے لئے رہائش اور خوراک کے انتظامات میں ہنگامی بنیادوں پر رد و بدل ضروری ہو گیا۔امسال کل اراکین مجلس کی تعداد ۴۶۰۰ رہی اس طرح حاضری کا بھی نیا ریکارڈ قائم ہوا۔علاوہ ازیں اجتماع کا پروگرام اپنی دلکشی کے باعث زائرین کو بھی اپنی طرف کھینچتا رہا۔اور خدام، اطفال اور دوسرے معزز دوست بھی اپنے احمدی دوستوں کے ہمراہ اجتماع میں آتے رہے، ایسے زائرین کی تعداد ۳۱۸۳ رہی۔اس لحاظ سے بھی اجتماع نے کامیابی کی نئی بلندیوں کو چھو دیا۔امسال مندرجہ ذیل آٹھ بیرونی ممالک سے بھی گیارہ انصار بطور نمائندہ اس مرکزی اجتماع میں شریک ہوئے۔ایران، کینیڈا، جرمنی ،سری لنکا، افغانستان، بنگلہ دیش، بھارت، انگلستان۔قبل از میں منعقد ہونے والے تمام مرکزی سالانہ اجتماع دفتر انصار اللہ کے احاطہ میں گراسی پلاٹ پر منعقد ہوتے رہے۔قریباً آٹھ دس سال قبل سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنے ایک خطاب میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے اجتماع کو کھلے میدان میں منتقل کرنے کی خواہش کا اظہار فرمایا تھا بہر حال یہ سعادت ۱۹۸۱ء میں