تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 168
۱۶۸ کے لئے یہ زندگی اجیرن ہو جاتی اگر ہر چیز ایک جیسی ہوتی۔ایک ہی پھول ہوتا۔اس کا ایک ہی رنگ ہوتا۔ایک ہی زمانہ میں پتے گرتے۔ویسے ہی پتے نکل آتے۔کوئی تنوع نہ ہوتا۔اس واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔کثرت شاں دلیل وحدت او۔کہ خدا تعالیٰ کی مخلوق میں جو کثرت اور تنوع ہمیں نظر آتا ہے، وہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ ایک ہے۔یہ بڑا گہرا فلسفہ ہے گھر جا کے سوچنا۔ہاں مَالَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا میں بتا چکا ہوں کہ قرآن سے باہر کوئی چیز نہیں۔یہ بڑی عظیم کتاب ہے۔قرآن عظیم جس کو ہم کہتے ہیں واقعی میں عظیم ہے۔۔۔۔قرآن پر غور کریں قرآن کریم ایک تو روز پڑھنا چاہئے تفسیر صغیر سے۔سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جس کو ویسے ترجمہ نہیں آتا اگر وہ متن پڑھا رہا ہو تو پتہ نہیں لگے گا۔اگر وہ ایک رکوع دس منٹ میں پڑھے، تین منٹ میں نہ پڑھے اور ترجمہ پر غور کرے کہ یہ کیا ہے۔کیا با تیں اس میں لکھی ہیں۔تو نئی سے نئی باتیں آپ کو ملنی شروع ہو جائیں گی۔کوئی ایک آیت قرآنی ایسی نہیں جس کے معانی چودہ سو سال میں ختم ہو چکے ہوں قیامت تک نکلتے آئیں گے۔چھپے ہوئے بطون اس کے اندر اس طرح رکھے ہیں۔لیکن اُس کے لئے دُعا اور پاکیزگی کی ضرورت ہے۔ایک آدمی پاکیزہ راہوں کو اپنی طرف سے کوشش کر کے معلوم کرے اور پھر اُن پر چلنے کی کوشش کرے۔اور دوسرے دُعا کرے۔کیونکہ دُعا کے بغیر تو کچھ ملتا نہیں۔ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لکھ بڑا عجیب اعلان ہے۔یہ نہیں کہ دعا کرو۔دعا کرومیں تمہاری دعا قبول کر لوں گا۔یہ پورے معنے نہیں دے رہا۔کیا ہے؟ مانگو مجھ سے ہمیں تم کو دوں گا۔کیوں نہیں مانگتے آپ؟ اپنے لئے مانگیں۔بچوں کے لئے مانگیں۔اس دنیا کے لئے مانگیں۔دُنیا تو ہلاکت کی طرف جا رہی ہے۔جانتی ہے۔اب جاننے لگ گئی ہے۔کہتے ہیں کچھ کریں۔متوازن غذا (صحت جسمانی کے ذکر پر فرمایا) اصل میں جو صحت ہے اس کا تعلق کھانے کے ساتھ ہے۔اور اچھا کھانا جو ہے اس کا تعلق میزان کے ساتھ ہے۔یعنی ایک BALANCE۔قرآن کریم نے جو محاورہ چودہ سو سال پہلے بتایا تھا وہ اب انہوں نے عام کر دیا ہے یعنی BALANCED FOOD متوازن غذا۔متوازن غذا کا مطلب ہے کہ جن بہت سارے اجزاء سے مل کے کھانا بنتا ہے، ان میں ایک توازن پیدا ہونا چاہئے تا کہ جن بہت سے کیمیاوی اجزاء سے ہمارا جسم بنا ہے، ان سارے اجزاء کی FEEDING