تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 167 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 167

۱۶۷ دیں۔یہ بھی ساتھ ہی کہا اور وہ زیادہ بڑا انعام ہے کہ عالمین کی ہر شے سے بہترین خدمت لینے کی عقل تیرے دماغ میں پیدا کر دی اور اُس طرف ہمارے ملکوں کے لوگوں کا دماغ ہی نہیں جاتا۔خوبانی اور بادام پر گلاب کا پھول یہ جو عزم ہے کہ ہم نے زیادہ سے زیادہ خدمت لیتے چلے جانا ہے، ترقی کرنی ہے، یہ تو مسلمان کے لئے تھا۔یہاں بھی ہے۔جا کے پتہ لگتا ہے۔ابھی پین میں کچھ آثار ہیں۔غرناطہ کا جو محل ہے۔پہلے بھی میں نے بتایا تھا پانی ایسی جگہ سے لے آئے کہ ابھی تک ان کو پتہ ہی نہیں کہ مسلمان انجینئر زنے کیا طریقہ اختیار کیا تھا۔پھر وہاں بڑی کثرت سے بادام اور خوبانی کے درخت پر گلاب کے پھول کا پیوند کر دیا۔تو بڑے بڑے خوبانی کے اور بادام کا درخت تو بہت بڑا نہیں ہوتا۔دس بارہ فٹ تک جاتا ہے۔اُن کے اوپر نہایت خوبصورت گلاب کا پھول لگا ہوا۔تو اب وہ فن وہاں کا انسان بھول ہی گیا جب مسلمانوں کو عیسائیوں نے مارا۔گردنیں اڑائیں تو ساتھ بہت سارے جو فن تھے اُن کی گردنیں بھی اُڑا آپ جوانوں کے جوان ہیں آپ سے میں اس لئے باتیں کر رہا ہوں کہ آپ میرے نزدیک بڈھے نہیں ہوئے۔جوانوں کے جوان ہیں۔ہر وقت سوچا کریں کہ کیا آپ اپنے رب سے، ان مسلمانوں کی نسبت جو قریباً نویں ہجری میں سپین میں تھے ، ان سے کم پیار کرنے والے ہیں؟ آپ کے دور میں تو مہدی آگئے۔آپ اُن پر ایمان لے آئے۔تو آپ کے دل میں تو اُن سے زیادہ پیار ہونا چاہئے۔بہت ساری اور چیزیں شامل ہو گئیں ان کی زندگی میں۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ اس موقع پر فضا میں طوطے اڑتے ہوئے نظر آئے تو حضور انور نے اُن کے متعلق احباب سے استفسار فرمایا۔جواب سننے پر فرمایا ) اس واسطے ہر چیز میں دلچسپی لیا کریں۔اور یہ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَانٍ اگر یہ چیز نہ ہوتی کہ پرندے کی پرواز ہر پرندے سے مختلف ہے۔ایک میل دور سے جانور اُڑ رہے ہوں۔طوطا اور فاختہ تو میری آنکھ تو ایک سیکنڈ کے اندر پہچان جاتی ہے یہ کیا جانور ہے۔اور اللہ کی شان نظر آتی ہے۔اس طرح نہیں کہ موٹر میں ایک لاکھ نکلیں۔ایک قالب میں سے تو ایک ہی شکل اُن کی۔پھر رنگ اُن کو مختلف کر کے MONOTONY کو توڑا گیا۔ورنہ تو آپ