تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 162
۱۶۲ ترین مسجد ۲۰ میل دور ہو تو پانچوں نمازیں وہاں جا کر پڑھا کرو۔بالکل یہ مسئلہ نہیں ہے۔بہت سی احادیث سے پتہ لگتا ہے اور جو صحابہ کرام کا عمل تھا۔اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ مسجد کی وہ دُوری کہ جہاں نماز کے لئے جمع ہونا نماز با جماعت کے لئے ضروری ہے وہ ہے کہ اس مسجد کی اذان کی آواز وہاں تک پہنچ جائے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ کراچی میں جماعت احمد یہ بکھری ہوئی ہے ۳۳ حلقے تو ہم نے انتظامی ضرورت کے لئے بنائے ہیں۔نماز با جماعت کے لئے تو ممکن ہے دوسو جگہوں کی ضرورت ہو۔۲۰۰ جگہ میں نے جان بوجھ کے کہا ہے۔۲۰۰ مساجد نہیں کہا یعنی جو ایک خاص گھر اللہ تعالیٰ کا بنایا جاتا ہے۔اَنَّ الْمَسْجِدَ لِلہ۔اور وہاں نماز کے لئے مسلمان جمع ہوتے ہیں۔اس لئے کہ نماز با جماعت کے لئے اُس قسم کی مسجد کی ضرورت نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جُعِلَتْ لِى الْأَرْضُ مَسْجِدًا ساری کی ساری زمین اللہ تعالیٰ نے میرے لئے ، میری امت کے لئے مسجد بنا دی۔تو اتنے فاصلے پر کہ جہاں سے آواز آ جاتی ہے وہاں کوئی ایسی جگہ ہونی چاہئے۔جہاں دوست اکٹھے ہو جائیں ورنہ اگر آپ ایک حلقہ جس میں ایک ایسا احمدی گھرانہ بھی ہے جو اُس حلقہ کی مسجد سے دو تین میل دور ہے اور آپ یہ امید رکھیں کہ خدا تعالیٰ کا حکم بجالاتے ہوئے اسے دو تین میل پانچ دفعہ آنا چاہئے۔یہ تخیل غلط ہے۔اور خدا تعالیٰ نے جو سہولت اور نرمی امت محمدیہ کے لئے پیدا کی یہ اُس کے خلاف ہے۔اس لئے اگر آپ نے نماز با جماعت اس معنی میں کروانی ہے جس معنی میں کہ ہمیں کہا گیا ہے کہ اکٹھے ہوا کرو۔تو نماز پڑھنے کے لئے جگہوں کے فاصلے اتنے ہونے چاہئیں کہ بغیر لاؤڈ اسپیکر کے اذان کی آواز پہنچ جائے۔ہوسکتا ہے کہ بعض ایسے حالات ہوں کہ آپ وہاں اذان نہ دے سکیں لیکن یہ تو ایک موٹا اندازہ ہے کہ یہاں سے اذان کی آواز پہنچ جائے گی یا نہیں پہنچے گی۔مغرب وعشاء اور صبح کی نمازیں ہو جائیں اور ظہر وعصر کے متعلق کوئی خیال ہی نہیں۔حالانکہ اگر ایک آبادی ظہر اور عصر کے وقت کسی اور جگہ اکٹھی ہوتی ہے اور صبح و شام کے وقت اُن کے گھروں کے قریب جب وہ فارغ ہوتے ہیں کسی اور جگہ اکٹھی ہوتی ہے تو دونوں جگہوں پر ایسا انتظام ہونا چاہئے کہ وہ نماز باجماعت ادا کرسکیں۔“ پھر تعلیم القرآن کے ذکر پر فرمایا۔جوشخص صیح معنی میں تفسیر صغیر پڑھ سکتا ہے وہ صحیح معنی میں درس بھی دے سکتا ہے۔“ مرکزی امتحانات مرکزی امتحانات کے ذکر پر فرمایا۔