تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 117
112 آج دنیا اسلام کی طرف متوجہ بھی ہے اور نمونہ مانگتی ہے۔ہر سفر میں، ہر موقع پر پریس کانفرنس میں یہ سوال ضرور اُٹھتا ہے کہ ہمارے سامنے نمونہ پیش کیا جائے۔اسلام کی تعلیم پر کون عمل کر رہا ہے اور ثمرات اسلام کیا ہیں یعنی اسلام پر ایمان لا کر کیا حاصل ہوتا ہے اور کیا حاصل ہو رہا ہے۔دنیوی لحاظ سے عقلمند لوگ ہیں یہ اُن کا حق ہے کہ یہ پوچھیں۔میں کھل کے بات کرتا ہوں۔میں تو خدا کا ایک عاجز بندہ ہوں کوئی چیز چھپا کے نہیں رکھتا۔میرے لئے دنیوی مصلحت کوئی نہیں۔میرے لئے سچ بولنا ایک ہی مصلحت ہے۔کھل کے کہتا ہوں کہ دیکھوا اگر ہم تمہارے سامنے کوئی ایسی چیز پیش کریں جو اُس سے اچھی ہو جو تمہارے پاس موجود ہے، تم لے لو گے اُسے۔عقل کا یہ تقاضا ہے۔لیکن اگر ہم تمہیں کنونس (CONVINCE) نہ کرسکیں ، اگر ہم تمہیں باور نہ کروا سکیں کہ جو ہم پیش کر رہے ہیں وہ بہتر ہے اس چیز سے جو تمہارے پاس ہے تو تم نہیں لو گے لیکن اگر باور کروانے میں ہم کامیاب ہو جائیں تو ہو ہی نہیں سکتا کہ تم نہ لو۔تم چھوڑ دو گے اس کو جو تمہارے پاس ہے۔کیونکہ تم قائل ہو گئے اس بات کے کہ جو تمہارے پاس ہے وہ اچھی نہیں ، جو ہم دے رہے ہیں وہ اچھی ہے اور میں نے اس دفعہ تحر ی سے ان کو کہا کہ دیکھو تم نے سائنس میں بڑی ترقی کی اور ایک پہلو یہ ہے کہ تم نے اپنے ایٹم بم اور ہائیڈ روجن بم اور دوسرے مہلک ہتھیاروں کے پہاڑ جمع کر لئے۔صرف یہی نہیں ، تم نے ایسے مسائل پیدا کر لئے اپنی زندگی میں اور وہ بھی بڑھتے چلے جارہے ہیں جن مسائل کا حل تمہارے پاس نہیں THE PROBLEMS YOU HAVEN'T GOT THE SOLUTION OF وہ PILE UP کر لئے ہیں اور پہاڑ بن رہے ہیں ایسے مسائل کے۔اور میں تمہیں بتا تا ہوں کہ ایک دن عنقریب آنے والا ہے جب یہ مسائل اتنے بڑھ جائیں گے جن کا حل تمہارے پاس نہیں ہو گا۔کہ تم مجبور ہو جاؤ گے اِدھر اُدھر دیکھنے کے لئے۔وہ دن اسلام کا دن ہے، اسلام آئے گا تمہارے پاس اور کہے گا کہ تمہارے ہر مسئلے کو میں حل کرتا ہوں۔تم مجبور ہو جاؤ گے اسلام کو مانے پر تمہیں آنا پڑے گا اسلام کی طرف۔ایک شخص نے پوچھا آپ جو کہتے ہیں، ساری دنیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی تو اگر جنگ ہو گئی ایک اور یعنی۔تو جو مر جائیں گے وہ تو جمع نہیں ہوں گے۔میں نے کہا۔میں نے یہ نہیں کہا کہ جو مر دے ہیں وہ بھی جمع ہو جائیں گے۔جن کو تم مار دو گے وہ تو تم نے مار دیئے۔میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ وہ وقت آنے والا ہے کہ زندوں کی ننانوے فیصدا کثریت جو ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی۔آج کے زمانہ کی یہ ایک حقیقت ہے جو میں نے ان کے سامنے رکھ دی لیکن اس حقیقت کی تفاصیل بیان کرنا یہ THIRD WORLD WAR