تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 110 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 110

تیسرا دن تیسرے دن کی ابتداء حسب معمول نماز تہجد کی باجماعت ادا ئیگی سے ہوئی جو کہ مکرم قاری عاشق حسین صاحب نے پڑھائی۔پھر نماز فجر ادا کی گئی۔اجلاس اوّل صبح آٹھ بج کر پینتیس منٹ پر مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد نے قرآن کریم کا درس دیا۔اس کے بعد پندرہ منٹ تک مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف نے حدیث کا درس دیا۔بعد ازاں مکرم پروفیسر حبیب اللہ خان صاحب قائد تعلیم نے ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں سے چند اقتباسات پڑھ کر سنائے۔چھ بج کر بیس منٹ پر مکرم شیخ محمد حنیف صاحب کوئٹہ نے عاجزی اور فروتنی کے عنوان سے پندرہ منٹ تک تقریر کی۔” تکبر اور بدظنی کے عنوان سے مکرم سید احمد علی شاہ صاحب نے تقریر کی اور ان برائیوں سے بچنے کی بڑے پر اثر انداز میں نصیحت کی۔ذکر حبیب: سات بج کر پانچ منٹ پر مکرم قائد صاحب تعلیم کے زیر انتظام ذکر حبیب پر ایک ایمان افروز پروگرام ہوا جس میں پہلے مکرم مولانا محمد احمد صاحب جلیل نے ایک مقالہ پڑھا۔پھر حضرت مولوی محمد حسین صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقریر فرمائی۔سات بج کر پینتیس منٹ پر ناشتہ کے لئے وقفہ ہوا۔اجلاس دوم نو بج کر پندرہ منٹ پر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی صدارت میں اجلاس دوم شروع ہوا۔مکرم حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب نے تلاوت قرآن کریم کی۔اس کے بعد مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چندا شعار پڑھ کر سنائے۔نو بج کر تمیں منٹ پر مجلس سوال و جواب شروع ہوئی۔مکرم مولا نا عبدالمالک خان صاحب، مکرم ملک سیف الرحمان صاحب، مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد، مکرم پروفیسر نصیر احمد خان صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے مختلف مسائل پر کئے گئے سوالات کے نہایت تفصیل سے جوابات دیئے۔علمی معلومات کا یہ سلسلہ تقریباً پونے گیارہ بجے تک جاری رہا۔صدر محترم کا پُر معارف صدارتی خطاب اس کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے نہایت پر معارف صدارتی خطاب فرمایا۔آپ نے آیت مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ عمل صالح کے بغیر تمام عزتیں بیچ ہیں۔ہر قسم کی عزت خدا کے لئے ہے اور اسی کے اختیار میں ہے کہ وہ کسی کو معزز کرے۔آپ نے فرمایا