تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 111
قرآن پڑھو اور اس پر عمل کرو۔لوگوں کو رحم کے ساتھ نصیحت کرو۔ہر نمازی ایک بے نماز کو ساتھ لانے کی کوشش کر کے جلسہ سالانہ میں حسن پیدا کریں۔جلسہ کے اوقات میں اور خصوصاً نمازوں کے اوقات میں بازار بند ہونے ضروری ہیں۔فرمایا ہمارے اس جلسے کی حیثیت عام میلوں کی طرح نہیں ہے اس لئے انصار کو چاہئیے کہ وہ بچوں کو یہ تلقین کریں کہ وہ تقاریر کے دوران صرف تقاریر ہی سنیں۔اس کے بعد باقی کام کریں تو اس میں بھی ایک عزت ہے۔اختتامی اجلاس گیارہ بج کر دس منٹ پر حضرت خلیفہ مسیح الثالث" مقام اجتماع میں تشریف لائے۔مکرم قاری عاشق حسین صاحب نے تلاوت قرآن کریم کی۔گیارہ بج کر ہیں منٹ پر مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود کی نظم فَسُبْحَانَ الَّذِى اَخْرَى الْاعَادِئی خوش الحانی سے سنائی۔بعد ازاں مکرم ثاقب زیروی صاحب نے اپنی نظم بعنوان ”وہ ایک شخص پڑھ کر سنائی جو آپ نے ایک افریقن دوست کے ایمان افروز خط سے متاثر ہو کر لکھی تھی۔گیارہ بج کر چالیس منٹ پر حضرت اقدس نے اپنے دست مبارک سے انعامات تقسیم فرمائے نیز اعلیٰ کار کردگی پر اسناد خوشنودی تقسیم فرما ئیں۔﴿۳۹﴾ خطاب حضور انور گیارہ بج کر پچاس منٹ پر حضرت خلیفہ المسح الثالث نے خطاب شروع فرمایا جو ایک بجے بعد دو پہر تک جاری رہا۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے وجد آفریں لہجے میں ارشاد فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہورہا ہے۔وہ قیام تو حید اور عظمت مصطفیٰ کے لئے ہو رہا ہے اور اس ضمن میں حضور نے افریقہ کے بعض ایمان افروز واقعات سنائے۔حضور نے فرمایا: بعض بہت ہی اہم باتیں میں خدام، انصار اور لجنہ یعنی جماعت سے کرنا چاہتا ہوں۔اس لئے ایسی باتوں کا ذکر میں نے خدام الاحمدیہ کے اجتماع تک ملتوی کیا ہے اور میں نے آپ سے کہا تھا کہ ہر ضلع کے انصار کے نمائندے خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں شامل ہونے چاہئیں لیکن لجنہ میں میں علیحدہ تقریر میں وہ باتیں مختصر بیان کر دوں گا۔لجنہ کا اجتماع خدام الاحمدیہ کے اجتماع کے ساتھ ہوتا ہے۔اُن سے علیحدہ باتیں ہو جائیں گی۔بہت سی تو ایسی باتیں ہیں جن کا میری ذات سے تعلق بظاہر نظر آتا ہے وہ تو مجھے حجاب ہوگا شاید میں نہ بیان کروں لیکن حقیقت یہ ہے کہ میری ذات سے کسی چیز کا بھی تعلق نہیں اس لئے کہ میں ایک نہایت ہی عاجز انسان ہوں اور جو کچھ بھی اِس وقت دنیا میں ہو رہا ہے، وہ اللہ تعالیٰ