تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 103
۱۰۳ مکین ہنس مکھ کوئی غصہ نہیں کوئی پرانی عداوت نہیں، کوئی تعصب نہیں ، بڑے پیار سے ملتے تھے۔اللهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ سارا جائزہ لے کے میں نے کہا مسجد یہاں بنے گی۔انشاء اللہ۔اور اب دس سال گزرے اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی۔قریباً ڈیڑھ دو گھماؤں زمین ہم نے وہاں خرید لی اور خریدنے سے پہلے میں نے انہیں کہا کہ لوکل آبادی سے اور مرکز سے یہ تحریر لو کہ ہمیں مسجد بنانے کی اجازت دیں گے۔تو مقامی انتظامیہ نے بھی اور مرکزی حکومت نے بھی تحریری اجازت دی کہ یہاں تم مسجد بنا سکتے ہو۔پھر ہم نے وہ زمین خرید لی۔یہ ہے اللهُ غَالِبٌ عَلَى آمَرِ؟ اور وقت مقد ر تھا۔ہمارے مبلغ صاحب تو کہہ رہے تھے سو سال تک دوسروں کی مساجد میں نماز پڑھیں گے۔میں نے کہا تھا نہیں۔انقلاب عظیم بڑی جلدی بپا ہونے والے ہیں۔دس سال کے بعد ہمیں اجازت مل گئی۔۔۔۔وَسِعُ مَكَانَكَ ایک اور واقعہ اس عرصہ میں ہوا۔اللہ تعالیٰ اپنے جاں شاروں کا امتحان بھی لیتا ہے۔۷۴ ء کا واقعہ جو سب جانتے ہیں۔حکومت وقت نے یہ سمجھا تھا کہ جماعت احمدیہ کو قتل کر کے سڑک کے پرے پھینک دیا اس کا لاشہ۔مگر اس وقت بہت سی باتیں اللہ تعالیٰ نے بتا ئیں۔ان میں سے ایک یتھی وَسِعُ مَكَانَكَ کہ مہمان تو پہلے سے بہت زیادہ آتے رہیں گے، ان کا انتظام کرو۔إِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِعِینَ یہ جو استہزاء کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔اس کے لئے میں کافی ہوں تمہارے لئے۔( پُر جوش نعرے) جہاں تک استہزاء کا منصوبہ تھا۔وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ وَالله خَيْرُ الْمُكِرِينَ کا نظارہ دنیا نے دیکھ لیا اور جہاں تک آنے والوں کا نظارہ تھا آج دیکھ لو وَسِعُ مَكَانَگ چھ سال کے اندر جماعت تعداد کے لحاظ سے بھی پاکستان میں نیز بیرونی ممالک میں کہیں سے کہیں پہنچ گئی ( مزید پر جوش نعرے) یہ بھی ایک پس منظر ہے۔واقعات بعد میں بتاؤں گا۔مساجد بنائیں ایک اور پس منظر۔یورپ میں فن لینڈ کے علاوہ سیکنڈے نیویا کے تین ملک ہیں۔ڈنمارک، سویڈن اور ناروے۔ناروے میں سب سے بڑی جماعت ہے۔وہاں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں نماز پڑھی جاسکے، بچوں کی تربیت و تعلیم کا انتظام ہو سکے۔اس سال جس مسجد ، مشن ہاؤس کا میں نے افتتاح کیا ناروے میں ، یہ پہلے مکان سے ڈیڑھ گنا بڑا مکان ہے۔نہایت اچھی لوکیلٹی (LOCALITY)، شرفا کا محلہ جہاں کوئی نعرہ بازی بھی نہیں ہوتی۔دنیا کے ہر ملک میں نعرہ باز بھی