تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 96 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 96

۹۶ یعنی یہ حقیقت ہے بغیر ذرا مبالغہ کے کہ میں بالکل اندھیرے میں تھا۔میں نے کہا کہ کتاب بھیج دیں، میرے پاس کتاب نہیں ہے۔مجھے کتاب بھیج دیں۔ابھی میں جواب دے دیتا ہوں۔یحییٰ بختیار کہنے لگے۔اچھا کل پھر آپ دے دیں۔کوئی ضروری نہیں ہے ابھی دیں۔میں نے کہا میں کہہ رہا ہوں۔میں نے ابھی دینا ہے جواب۔تو آپ مجھے کتاب بھیج دیں۔دو تین دفعہ تکرار کے بعد وہ لے آیا نشان لگا کے۔کتاب میں نے کھولی۔جہاں سے وہ پیرا شروع ہوتا تھا، تین چار سطریں نیچے وہ فقرہ تھا جہاں اُس کا جواب تھا۔اور میری آنکھ نے وہی پکڑا۔میں نے پہلی ہی نظر میں اُس کو پکڑا۔میری عادت تھی جہاں مجھے موقع ملتا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام اُن کے کانوں میں ڈال دیتا تھا۔تو میں نے کہا آپ نے ایک فقرہ پڑھا اور اعتراض کر دیا۔میں ایک پیرا پڑھ دیتا ہوں اور آپ کو جواب مل جائے گا۔میں نے سارا پیرا پڑھ دیا اتنی تفصیل میں۔تو اس سے بڑا نشان سوچ بھی نہیں سکتا۔گیارہ دن ، باون گھنٹے دس منٹ جو خدا نے کہا تھا، اُس کے مطابق میری رہنمائی کرتا رہا۔ایک دن مجھے شام کو خدا نے کہا کہ کل ایک ایسا سوال کیا جائے گا کہ تمہارے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل جائے گی۔میں نے اپنے ساتھیوں کو کہ دیا کہ مجھے خدا نے یہ بتایا ہے، ہوشیار ہو جائیں۔گیارہ بجے چائے کا وقفہ ہوا۔کوئی ایسا سوال نہیں آیا۔سوال آتے گئے۔جواب دیتے رہے۔کھانے کا وقت آ گیا۔کوئی سوال نہیں۔شام کی چائے پینے کے لئے بہت سارے وقفے آیا کرتے تھے۔اُس وقت تک کچھ سوال نہیں ہوا۔بالکل آخری پانچ دس منٹ بلکہ آخری سوال کر دیا۔بالکل کسی کو اُس کے جواب کا نہیں پتہ تھا۔ہم دے ہی نہیں سکتے تھے اُس کا جواب۔بڑی پریشانی اٹھانی پڑی۔ہم نے اُن کو کہا کہ کل دیں گے جواب۔انہوں نے کہا کہ ہاں ٹھیک ہے۔دیر ہو گئی ہے، کل ہی دے دیں۔مشورہ کیا اُس کے جواب کے لئے۔فون کیا۔دس سال کے الفضل کے فائل منگوائے ربوہ سے۔وہاں سے موٹر چلی۔صبح کی اذان کے وقت وہاں پہنچی۔اُس کو دیکھا۔تلاش کیا۔وہاں سے وہ جواب ڈھونڈا تب تسلی ہوئی۔یعنی ساری رات خدا تعالیٰ نے پریشان رکھا، دعائیں کرائیں۔یہ بھی اُس کا احسان ہے۔لیکن بتا دیا تھا پہلے کہ اتنی پریشانی اٹھاؤ گے کہ حد نہیں۔پھر وہ جواب دیا اُن لوگوں کو۔تو انصار اللہ سے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ کی ذمہ داری ہے ساری دُنیا کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے۔اس کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت تھی ، وہ اللہ تعالیٰ نے اُس کے شخص کے ذریعے جسے پہلوں نے بھی اور صرف اُسے ہی پہلوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس کامل کہا ہے۔یعنی پہلے انبیاء کے مقابلہ میں بھی۔یہ ہمارا پرانا حوالہ ہے کہ مہدی ، ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ناں ) جو