تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 63 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 63

۶۳ حسب ذیل ہیں۔(۱) سیالکوٹ (۲) لاہور (۳) گوجرانوالہ (۴) صوبہ سرحد میں بھی پہلے کی نسبت نمایاں بیداری رہی۔(1) راولپنڈی (۷) گجرات (۸) سرگودھا (۹) ساہیوال (۱۰) ٹوبہ ٹیک سنگھ وقف عارضی کی بابرکت تحریک کے متعلق مجالس کو انفرادی اور اجتماعی طور پر بھی توجہ دلائی گئی جس پر مجلس ماڈل ٹاؤن لاہور سے ایک درجن کے قریب واقفین عارضی کے فارم مرکز میں موصول ہوئے۔عہد یداران قیادت کی طرف سے چھ شہری اور گیارہ دیہاتی مجالس کے دورے کئے گئے۔قیادت کے کام کے علاوہ اس دوران ماہنامہ انصار اللہ کے نئے خریدار بنائے گئے۔صدر محترم نے اس سال پاکستان کی مختلف شہری اور دیہاتی مجالس کے متعدد دورے کئے جہاں اردگرد کی دوسری مجالس کے زعما بھی مدعو کئے گئے۔بعد ازاں بذریعہ خصوصی سرکلر مجالس کو توجہ دلائی گئی کہ وہ صدر محترم کی ہدایات پر عمل کرنے کے بعد نتائج سے آگاہ کریں۔صدر محترم نے جب اس سال کے شروع میں صوبہ سرحد کا دورہ کیا تو وہاں انصار اللہ اور جماعت کے دیگر سر کردہ دوستوں سے مشورہ کے بعد ایک جائزہ کمیٹی مقرر کی گئی جو ایسا معین طریق کار طے کرے جس سے اصلاح وارشاد کے کام میں نمایاں ترقی ہو۔اس موقعہ پر بعض مخلصین نے اپنی رضا کارانہ خدمات بھی پیش کیں۔اس کام کی مسلسل نگرانی اور وقتاً فوقتاً اسے تازہ رکھنے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ چند بار مرکزی نمائندگان کے دورے کروائے جائیں چنانچہ اس سکیم کے تحت پہلا دورہ خود صدر مجلس نے کیا جو جنوبی صوبہ سرحد کا تھا۔الحمد للہ کہ اس کے نیک نتائج ظاہر ہوئے۔بعد ازاں ایک خصوصی وفد جو مکرم مولانا عبد المالک خان صاحب ناظر اصلاح وارشاد اور مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب وکیل المال تحریک جدید پر مشتمل تھا ،اگست کے آخر میں صوبہ سرحد کے ایک ہفتہ کے دورہ پر بھجوایا گیا۔اس وفد نے متعدد جگہوں پر دن کو تبلیغی مجالس منعقد کیں اور رات کو سلائیڈ ز دکھا ئیں۔اس دورہ کا نتیجہ نہایت اچھا نکلا اور ان گم گشتگان میں سے کئی جو بظاہر جماعت سے کٹ چکے تھے ، بفضل تعالیٰ از سرنو جماعت سے آملے۔اس اہم کام کی نگرانی جس میں اصلاح و ارشاد اور تربیت دونوں شامل ہیں خصوصی طور پر مکرم قائد صاحب اصلاح وارشاد کے سپرد کی گئی۔قیادت ہذا کی طرف سے رابطہ رکھ کر اس کام کو آگے بڑھانے کی کوشش جاری رہی۔تبلیغی مجالس کے لحاظ سے مجلس کراچی سب سے زیادہ سرگرم عمل رہی۔اس کے بعد فیصل آباد اور شیخو پورہ عمدہ کام کرتے رہے۔صدر محترم کی ہدایت پر ان مجالس کے حوالہ سے اور ان کا نمونہ بتلا کر پاکستان کی بارہ بڑی بڑی شہری مجالس میں سے ہر ایک کو اس کے رقبہ اور آبادی کو حوظ رکھتے ہوئے تبلیغی مجالس کا ٹارگٹ بھجوایا گیا