تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 45
۴۵ جاتی ہے۔قرآن کریم سے یہ اصل ثابت ہے۔اس لئے ہر شخص اگر سال میں ایک احمدی نہیں بنا سکتا جو انشاء اللہ بنائے گا کم سے کم۔آج نہیں تو کل پرسوں۔یہ ہمارا مقصد اعلیٰ ہے، اس کو ہم نے پورا کر کے چھوڑنا ہے انشاء اللہ۔ہم نے اپنے حوصلے پست نہیں کرنے۔لیکن فی الحال یہ کیجئے کہ کم سے کم ہر مجلس دگنا ہو جائے۔آج اگر ۸۳۷ مجالس ہیں تو اگلے سال ۱۶۷۴ ہو جائیں۔ایک مجلس اپنے ساتھ ایک اور مجلس کا قیام کرے۔اس طرح کہ اردگرد کے دیہات کا جائزہ لیں۔فیصلہ کریں کہ ان ان دیہات میں ہم نے جماعت قائم کرنی ہے۔اگر مجلس انصار اللہ قائم نہیں ہوتی تو مجلس خدام الاحمدیہ قائم کر دیجئے۔لیکن کوئی مجلس ضرور بڑھا ئیں اور یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم اپنے گاؤں کے ماحول میں ایک احمدی بنائیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔یہ کوئی خیالی فرضی تنگ نہیں ہے۔امر واقع ہے کہ خدا کے فضل سے معمولی معمولی علم کے آدمیوں کو بھی جو خلوص کے زیور سے آراستہ ہیں اور دعا گو ہیں، خدا تعالیٰ یہ توفیق عطا فرما چکا ہے کہ ایک سال میں وہ پانچ پانچ چھ چھ گاؤں میں احمدیت کے بوٹے لگا چکے ہیں۔ابھی حال میں اسی سال کے اندر ایک دوست ہیں۔ایک ضلع میں وہ معمار کا کام کرتے ہیں۔معمولی علم ہے مگر خلوص ہے، عشق ہے احمدیت سے۔اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے۔حوصلہ بلند ہے۔یہ وہ بنیادی صفات ہیں جو ایک مومن میں ہونی چاہئیں۔اور زبان میٹھی ہے۔ماریں کھانے کی جرات رکھتے ہیں اور حوصلہ رکھتے ہیں۔انہوں نے ایسے علاقے میں کام شروع کیا جہاں مارنے والے بڑے بڑے مشہور ہیں اور مار چکے ہیں وہاں لوگوں کو۔دو احمدی شہید بھی ہو چکے ہیں اس علاقے میں ، بالکل پر واہ نہیں کی۔اللہ کا نام لے کر ساتھ اینٹیں چنتے جاتے تھے اور ساتھ تبلیغ کرتے جاتے تھے۔خدا نے اپنے فضل سے نوازا اور متعدد دیہات میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ اب احمدیت کے پودے وہاں قائم ہو چکے ہیں۔اگر ایک خدا کا بندہ صاحب عزم اور صاحب انکسار، صاحب حوصلہ لیکن عاجز انسان اگر یہ کام کر سکتا ہے تو مجالس مل کر یہ عہد کریں کہ ہم ضرور ایک مجلس قائم کریں گے تو کوئی وجہ ہی نہیں کہ نہ ہوسکیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مثال پکڑنی چاہیئے آخری بات اس سلسلہ میں میں یہ عرض کرتا ہوں کہ حوصلے پست نہ ہونے دیں۔مومن بڑے حو صلے والا ہوا کرتا ہے۔بعض لوگ ایسی باتیں سن کے کہتے ہیں کہ لوجی یہ تو عجیب بات ہے۔حسابی اربعہ ہے۔اربعوں سے کس طرح فتح ہو گی۔اگر ار بعے آپ لگائیں دنیا کے حساب سے اور عقل پر ان کی آزمائش کریں تو محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا دلیل بنتی ہے آپ کے پاس۔اکیلا انسان