تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 42
۴۲ شروع کیا۔چونکہ نیتیں خالص تھیں اور طبیعتوں میں انکسار تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی نیکیوں کو نوازا اور خدا کے فضل سے وہاں ایک لہر دوڑ پڑی ہے۔اور تبلیغ اور دلیل اپنی جگہ جاری ہے لیکن پھل جو ہیں وہ صاف نظر آ رہا ہے کہ خدا کے فرشتے توڑ توڑ کر جھولیوں میں پھینک رہے ہیں۔کثرت سے کشوف کے ذریعہ الہامات کے ذریعہ، خوابوں کے ذریعہ وہاں لوگ احمدیت کو قبول کر رہے ہیں۔پس گھر سجانے کا وقت آچکا ہے۔دلوں کے گھر سجائے بغیر، اپنے گھروں کو عبادت کی رونق بخشے بغیر ، اپنی مسجدوں کو خدا کے ذکر سے بھرے بغیر آپ کس طرح ان آنے والوں کی مہمان نوازی فرمائیں گے؟ آپ کے پاس کیا ہو گا ان کو پیش کرنے کے لئے۔اس لئے اپنی اصلاح کا وقت پہلے بھی تھا۔لیکن اب بہت ضروری ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ یورپ کو بھی اعتباہ کر آئے ہیں۔اور آپ کو بھی بار ہا انتباہ فرما چکے ہیں کہ وہ غلبہ اسلام کی صدی آنے والی ہے۔سر پر کھڑی ہے اس لئے پہلے پہلے اس کی تیاری کر لو۔ہر صالح وجود روحانی میدان کارجل بنے اور اس کی تیاری کا دوسرا پہلو ( گھروں کی سجاوٹ کے بعد۔مسجدوں کی زینت کے بعد ) تبلیغ کا پہلو ہے۔تبلیغ کی طرف آپ کو فوری اور ضروری توجہ دینی چاہئیے۔حضرت اقدس مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی سوانح حیات کی تحریر کے سلسلہ میں مجھے حضور کی پرانی عبارتیں پڑھنے کی توفیق ملی اور میں نے تعجب کیا کہ خلافت کے پہلے سال ہی سے حضور جماعت کو یہ نصیحت فرماتے چلے آ رہے ہیں کہ ہر احمدی دگنا ہونا سیکھ جائے۔وہ زندگی کے آثار اس طرح پیدا کرے کہ ہر شخص نہ صرف یہ کہ دو ہو سکے بلکہ ہر سال دو ہو۔آپ بار ہا فرماتے ہیں۔آخر وقت تک یہی نصیحت جاری رکھتے ہیں جماعت کو کہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ فتح آئے گی ضرور لیکن فتح کا طریق یہ ہے کہ ہر صالح وجود حقیقی رجولیت پیدا کرے۔روحانی میدان کا رجل بنے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے متعلق رجال کا تعریفی کلمہ استعمال کیا گیا یعنی صرف عام انسان نہیں بلکہ مردانسان۔پس آپ بھی وہ رجال بن جائیں جن کے متعلق روحانی طور پر بڑھنے اور نشو و نما کی ضمانت موجود ہے۔جب آپ ایسے مرد میدان بنیں گے کہ روحانی طور پر آپ کی نشو و نما ہونی شروع ہو جائے گی۔ہر احمدی ہر سال ایک روحانی بچہ پیدا کرے گا تو پھر ایسی جماعت کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں مٹا سکتی۔اور وہ فتح جو حساب کی رو سے ہزاروں سال دور نظر آتی ہے وہ اس تیزی سے قریب آئے گی کہ انسانی تصور اس کا حقیقی اندازہ نہیں کرسکتا۔یہ ایک ایسا فارمولا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے زندگی کے رازوں پر نظر ڈال کر یہ فارمولا معلوم کیا۔اللہ تعالیٰ