تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 462
۴۶۲ ایک حالیہ ارشاد آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: چودھویں صدی بنیادوں کو استوار کرنے کی صدی تھی ایک ایسے قلعہ کی جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں نوع انسانی کی بڑی بھاری اکثریت نے پناہ لینی تھی اور اس صدی نے ان بنیادوں پر اس قلعہ کو تعمیر کرنا ہے۔اللہ کے فضل سے انشاء اللہ۔ہم بھی اس قلعہ کی تعمیر میں مزدور کا کام کرتے ہیں اور کریں گے۔انشاء اللہ۔اور خدا آنے والی نسلوں کو بھی یہ توفیق دے کہ وہ اس بات پر فخر کریں کہ خدا تعالیٰ کے قلعہ کے مزدور نہیں۔دنیا کی بادشاہتیں اُن کی نظر میں حیثیت نہ رکھتی ہوں۔“ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فرائض سمجھنے اور اُنہیں یہ احسن سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنے کی توفیق دے۔آمین والسلام خاکسار مرزا طاہر احمد صدر مجلس انصاراللہ مرکزیہ سالانہ اجتماعات پہلا سالانہ اجتماع مقام پر مجلس انصاراللہ جزائر فجی نے اپنا پہلا سالانہ اجتماع 9 اور ۱۰ نومبر ۱۹۸۰ء کو LAUTOKA (لٹوکا) کے منعقد کیا۔صووا مجلس کے انصار بذریعہ بس ۹ نومبر صبح چار بجے لٹوکا کے لئے روانہ ہوئے۔ساڑھے نو بجے لٹو کا پہنچنے پر جماعت کی طرف سے ناشتہ پیش کیا گیا پھر پروگرام کے مطابق دس بجے اجتماع شروع ہوا۔مکرم مولانا سجاد احمد صاحب خالد امیر ومشنری انچارج و نائب صدر مجلس انصار اللہ نے صدارت کے فرائض سر انجام دیئے۔اجتماع کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جو کہ محمد اسماعیل صاحب میٹیور آف صووانے کی نظم مکرم منظور الہی خان صاحب آف لٹو کا نے خوش الحانی کے ساتھ پڑھی۔ازاں بعد مکرم نائب صدر صاحب نے سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث، مکرم وکیل التبشیر صاحب اور مکرم صدر صاحب مجلس مرکز یہ کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔پیغام سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث حمد اللہ تعالیٰ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغام میں فرمایا: میں یہ سن کر بہت خوش ہوا ہوں کہ جزائر فجی کی مجلس انصار اللہ اور مجلس خدام الاحمدیہ اپنے سالانہ اجتماع منعقد کر رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ جزائر مبنی کے انصار اور خدام کو طاقت اور جرأت عطا کرے تا وہ اپنے فرائض کو اسلام کی تعلیم کے مطابق سرانجام دے سکیں۔اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو اور وہی اپنی برکات