تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 444 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 444

۴۴۴ ابتدائی زمانہ سے حضرت صوفی غلام محمد صاحب کے دور کے احمدی ہیں۔ان کے والد مکرم بھی قدیمی احمدی تھے۔اس زمانہ میں مخالفت نہایت شدید تھی۔حضرت صوفی صاحب کو گلی میں جاتے ہوئے گالیاں سننی پڑتی تھیں۔موصوف کے والد رحمن حسن علی صاحب کا واقعہ ہے کہ فنکس کے علاقہ کے ایک شدید مخالف نے ان سے کہا تھا کہ اگر تم احمدی ہونے کی حالت میں مر گئے تو تمہیں غسل دینے والا کوئی نہیں ہو گا۔انہوں نے اس مخالف کو یہ جواب دیا کہ مجھے خدا موت نہیں دے گا جب تک مجھے غسل دینے والے اور دفنانے والے پیدا نہ ہو جائیں۔چنانچہ ان کی زندگی میں ہی اس علاقہ میں احمدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور دشمنوں کے ناپاک ارادے اور خواہشات خاک میں مل گئیں۔اس کے بعد جماعت احمد یہ مونتائیں لونگ کے مکرم حنیف صاحب نے حاضرین سے خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ احمدیت سے پہلے ماریشس کا جزیرہ روحانی طور پر جنگل تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس جزیرہ کو منور کرنے کے لئے احمدیت کی روشنی کو یہاں بھیجا۔احمدیت کی برکت حضرت صوفی غلام محمد صاحب ماریشس میں لے کر آئے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت صوفی صاحب نے میرے دل و دماغ پر بہت گہرے نقوش ثبت کئے ہیں۔ماریشس میں صحابہ حضرت مسیح موعود تشریف لائے ، ان کے ذریعہ ہمیں روحانی اور علمی دولتیں ملیں۔انہوں نے کہا کہ ان بزرگ مبلغین کے ساتھ اولین احمدیوں نے بھی شاندار قربانیاں پیش کی تھیں۔ہمیں چاہئیے کہ ان کے خلوص، فدائیت اور قربانیوں کے جذبہ کو بار بار جماعت کے نو جوانوں کے سامنے رکھیں تا آئندہ نسل اپنے آباء کے نیک نمونوں پر چل کر زیادہ بہتر رنگ میں احمدیت کی خدمت کا مقدس فریضہ سرانجام دے سکیں۔مکرم بھنو صاحب نے تقریر کے آخر میں انصار سے درخواست کی کہ اپنے بچوں کو احمدیت سے آگاہ کریں اور ان کو اس قابل بنا دیں کہ وہ احمدیت کی امانت کی صحیح طور پر حفاظت کر سکیں اور اپنے قول و عمل سے تبلیغ احمد بیت کے کام کو احسن طور پر سرانجام دے سکیں۔اس پروگرام کی تیسری تقریر مکرم حنیف جواہر صاحب سابق صدر جماعت ماریشس کی تھی۔انہوں نے بتایا کہ جب ان کے والد مکرم احمد جواہر صاحب نے بیعت کی تو سارا خاندان دشمن ہو گیا اور شدید مخالفت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔احمدیت کی ابتدائی تاریخ کے واقعات بیان کرتے وقت موصوف رو پڑے۔انہوں نے حضرت حافظ جمال احمد صاحب کے زمانہ کی مشکلات کا ذکر کیا۔آخر میں مکرم حنیف صاحب نے تجویز کیا کہ جماعت کے مکتب کے نظام کو مضبوط بنانا چاہئے اور خدام الاحمدیہ اور لجنہ کے ذریعہ ایسی کلاسوں کا انعقاد کرنا چاہئیے جن میں نوجوانوں کو اسلام کی تعلیمات سے اچھی طرح آگاہ کیا جائے تا کہ وہ مضبوط احمدی بن جائیں۔مکرم جواہر صاحب کے بعد مکرم طالب رمضان صاحب نے مونتا میں بلانش میں احمدیت کے قیام کے