تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 26 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 26

۲۶ دوسری تقریر مکرم فضل الہی انور کی صاحب نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سیرت سے متعلق کی۔آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تینوں خلفائے راشدین کے مشیر و عین رہے اور اپنی خلافت کے دور میں تمام فتن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جام شہادت نوش فرمایا۔قائدین مرکزیہ کی رپورٹیں اس کے بعد صدر مجلس حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی زیر صدارت قائدین مرکز یہ نے اپنے اپنے شعبے کی کارگزاری کی سالانہ رپورٹیں پڑھ کر سنائیں۔﴿۱۳﴾ اس موقعہ پر قیادت ذہانت و صحت جسمانی کے ضمن میں محترم صدر صاحب نے احمدی شعراء کے لئے نظمیں لکھنے کا ایک نیا میدان تجویز کیا اور فرمایا کہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کا یہ مبارک ارشاد ہے کہ انصار اللہ جوانوں کے جوان ہیں لہذا آپ نے مقابلہ نظم کے لئے پہلا مصرع بھی تجویز کیا جو یہ تھا ع ”جوانوں کے تم ہو جواں الله الله آپ نے اعلان فرمایا کہ اس پر نظمیں لکھنے والوں میں سے اوّل اور دوم آنے والوں کو اگلے سال انعام دیا جائے گا۔(اس پر بہت سے شعراء نے طبع آزمائی کی۔منصفین کے فیصلہ کے مطابق مکرم سعید احمد صاحب اعجاز اول، مکرم عبدالمنان ناہید صاحب دوم اور مکرم عبدالرشید صاحب شیدا سوم رہے۔) مجلس شوریٰ اس کے بعد مجلس شوری کی کارروائی اجتماعی دعا سے گیارہ بجے قبل دو پہر شروع ہوئی اور پونے دو بجے دو پہر تک جاری رہی۔کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جو مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے کی۔اس کے بعد صدر محترم نے دعا کرائی کہ اللہ تعالیٰ صحیح فکر ہیچ سوچ اور صحیح فیصلوں تک پہنچنے کی توفیق دے۔قائد مقامی کا تقرر: اجتماعی دعا کے بعد ایجنڈا میں درج شدہ تجاویز پر غور شروع ہوا۔تجویز نمبر ایک زعیم اعلیٰ ربوہ کو مجلس عاملہ مرکز یہ کارکن مقرر کرنے کے علاوہ ان کے عہدہ کا نام زعیم اعلیٰ کی بجائے قائد مقامی رکھنے سے متعلق تھی۔پانچ نمائندوں نے اس تجویز کے متعلق اپنی رائے دی۔بالآخر یہ تجویز ان الفاظ میں متفقہ طور پر منظور کر لی گئی کہ عہدہ کی تبدیلی کئے بغیر مجلس ربوہ کا زعیم اعلیٰ مجلس عاملہ مرکز یہ کارکن ہوگا۔ربوہ کا زعیم اعلیٰ صدر کا نامزد ہوا کرے گا۔اس کے مطابق دستور اساسی کے متعلقہ قاعدہ میں ترمیم کی جائے۔“ مجلس شوری کے فیصلوں کی توثیق: ایجنڈا کی تجویز نمبر مجلس شوری کے فیصلوں کی منظوری کے متعلق تھی کہ آیا ان کی منظوری صدر مجلس دیں یا آخری منظوری کے لئے خلیفہ وقت کی خدمت میں پیش کئے جائیں۔