تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 25
۲۵ رُو سے قرآن کریم پڑھنے والوں کے مراتب اور ان کے اعلیٰ اجر کا ذکر کیا۔آپ نے بتایا کہ قرآن کریم ایک ایسی کامل کتاب ہے کہ ہر انسان خواہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے یا معمولی پڑھا لکھا یا ہل چلانے والا معمولی کسان ، ہر کوئی اپنی اپنی استعداد کے مطابق قرآن مجید سے استفادہ کر سکتا ہے۔11 مکرم مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر سابق مبلغ ماریشس نے ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درس دیا۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں بیان فرمایا کہ جو کمالات متفرق طور پر گزشتہ انبیاء کودیئے گئے یا بعض الہامی کتابوں میں ودیعت کئے گئے تھے ، وہ سب کے سب قرآن مجید میں جمع کر دیئے گئے ہیں۔یا الہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر تین تقاریر ہوئیں۔پہلی تقریر میں مکرم ملک مبارک احمد صاحب استاد جامعہ احمدیہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی سے قبل کی زندگی کے بارے میں بتایا کہ آپ کی زندگی کا یہ دور بھی نبوت کے دور سے کچھ کم اہم نہیں کیونکہ آپ کی روحانی پیدائش کی ابتداء خود تخلیق کائنات سے بھی پہلے ہو چکی تھی۔اس دور میں آپ کی پاک زندگی اور عبادت الہی کوتفصیل سے بیان کیا گیا۔دوسری تقریر ایفائے عہد کے موضوع پر مکرم مولانا نذیر احمد صاحب مبشر نے کی۔آپ نے قرآن مجید سے ایفائے عہد کی اہمیت بیان کرتے ہوئے چند احادیث نبویہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس بارہ میں اسوہ حسنہ پیش کیا۔تیسری تقریر مکرم مولوی جلال الدین صاحب قمر استاد جامعہ احمدیہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں سے شفقت کے موضوع پر کی۔آپ نے بتلایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی تعلیم دی۔اَكْرِ مُوا أَوْلَادَكُمْ وَ أَحْسِنُوا أَدَبَهُمْ فرما کر بچوں کی عزت اور اکرام اور تہذیب و تادیب کے لحاظ سے ایک عظیم انقلاب بر پا کر دیا۔﴿۱۲﴾ اجلاس دوم پونے نو بجے صبح اجلاس دوم مکرم شیخ محمد حنیف صاحب امیر جماعت کوئٹہ کی صدارت میں شروع ہوا۔تلاوت و نظم کے بعد سیرت صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحت پہلی تقریر مکرم صوفی محمد اسحاق صاحب استاد جامعہ احمدیہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سیرت پر کی۔آپ نے بتایا کہ خلیفہ ثالث حضرت عثمان فطرتا نہایت پارسا، دیانتدار، راستباز اور حیا دار انسان تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے آپ کے عقد میں آئیں۔حضرت عثمان نے ردائے خلافت کو آخر دم تک پہنے رکھا اور منافقوں اور باغیوں کا مقابلہ کیا اور اس راہ میں اپنی جان قربان کر دی۔