تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 414
۴۱۴ دسمبر ۱۹۸۷ء کو دستور اساسی کا حصہ بن کر نافذ ہوئیں۔۳۔سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے نومبر ۱۹۸۹ء کو ہر ملک میں دیگر ذیلی تنظیموں کی طرح مجلس انصار اللہ کے لئے بھی صدارت کا نظام جاری فرمایا اس طرح اب وہ علیحدہ نگرانی میں اپنے فرائض سرانجام دینے کی ذمہ دار ہیں۔یہاں بیرونی مجالس کی کارکردگی کا مختصر سا جائزہ پیش کیا جارہا ہے جو ۱۹۸۲ء تک کا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان مجالس کی کار کردگی کا مکمل احوال پیش کرناممکن نہیں۔صرف چندا ہم سرگرمیوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔انگلستان ۱۹۷۹ء میں مجلس انگلستان نائب صدر امام بیت الفضل مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب تھے۔جنوری ۱۹۸۰ء سے مکرم چوہدری ہدایت اللہ صاحب بنگوی اور جون ۱۹۸۱ء میں مکرم بنگوی صاحب کی رخصت پر جانے کے بعد مکرم چوہدری انور احمد صاحب کا ہلوں نے نظامت اعلیٰ کے فرائض سرانجام دیئے۔یکم اپریل ۱۹۸۱ء کو صدر صاحب مجلس مرکزیہ نے مجالس انگلستان نے مندرجہ ذیل زعماء کا انتخاب منظور فرمایا۔لنڈن: مکرم چوہدری انور احمد صاحب کا ہلوں۔ایسٹ لنڈن مکرم قریشی عبدالرشید صاحب کرائیڈن: مکرم محمد عارف بھٹی صاحب۔آکسفورڈ: مکرم نور دین صاحب ساؤتھ آل : مکرم صلاح الدین فتح صاحب گرین فورڈ: مکرم و دود احمد صاحب ہنسلو : مکرم مرز اعبدالشکور صاحب۔برمنگھم: مکرم محمد ادریس چغتائی صاحب بریڈ فورڈ: مکرم اللہ دتہ بٹ صاحب۔جلنگهم۔مکرم سید بشیر احمد صاحب ہڈرزفیلڈ : مکرم رشید احمد خان صاحب۔مانچسٹر : مکرم چوہدری رحمت خان صاحب کوونٹری یمنگٹن سپا: مکرم حمید احمد بھٹی صاحب سلو: مکرم محمداحمد بھٹی صاحب لیوٹن : مکرم محمد اقبال صاحب بٹ۔ہیز : مکرم عبد الغنی صاحب گلاسگو۔سکاٹ لینڈ : مکرم ملک حفیظ الرحمان صاحب نوٹ : لیڈز کا الحاق بریڈ فورڈ اور واٹفورڈ کا الحاق ساؤتھ آل کی مجلس سے تھا۔مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب نائب صدر مرکزیہ نے مجالس انگلستان کا دورہ ۲۹ مئی سے ۱۵ جون ۱۹۸۱ء تک کیا۔اس دورہ میں آپ نے مندرجہ ذیل مجالس میں تشریف لے جا کر تنظیمی امور سر انجام دیئے۔تفصیلی رپورٹ پہلے صفحات میں گزر چکی ہے۔) جلنگھم ( ۳۰ مئی )۔ساؤتھ آل۔ہیز۔گرین فورڈ۔ہانسلو۔سلو (۳۱ مئی )۔برمنگھم ( یکم جون )۔