تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 397
۳۹۷ میں انعامات تقسیم فرمائے۔ازاں بعد مکرم کرنل دلدار احمد صاحب ناظم ضلع نے سالانہ رپورٹ کارگزاری پیش کی۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے نہایت ایمان افروز خطاب میں فرمایا کہ راولپنڈی کا ضلع بہت اہمیت رکھتا ہے لیکن مجلس انصار اللہ ضلع راولپنڈی کی کارکردگی توقع سے بہت کم ہے۔آپ نے فرمایا گذشتہ سال کی طرح امسال کے اجتماع میں خدا کے فضل سے انصار و خدام نے جوش اور شوق کے ساتھ حصہ لیا ہے جو بہت خوشکن امر ہے۔اب عہدیداران مجالس کا فرض ہے کہ وہ اس بیداری سے فائدہ اٹھائیں۔مسلسل کوشش کریں تا کہ خاطر خواہ نتائج پیدا ہوسکیں۔آپ نے فرمایا جو لوگ اصلاح وارشاد کے فریضہ سے غافل ہو جاتے ہیں ، وہ اپنے آپ کو اور اپنی اولا د کو نام کے احمدی کہلانے پر اکتفا کرتے ہیں اور اس طرح مجاہدانہ زندگی گزارنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔آخر میں آپ نے نصیحت فرمائی کہ ضلع راولپنڈی کے انصار اور اس کے عہدیدار اپنے ارادوں اور حوصلوں میں وسعت پیدا کریں اور مجالس کے پروگرام کو اپنے طور پر نئے سرے سے منظم کریں تا کہ انصار زیادہ عمدگی کے ساتھ کام کر سکیں اور اپنے آپ کو وسعت دے سکیں۔آخر میں آپ نے اختتامی دعا کرائی۔نماز عشاء کے بعد مسجد نور میں ایک مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی۔جس میں صدر صاحب نے مختلف احباب کے تحریری سوالات کے نہایت مؤثر ، مدلل اور ایمان افروز جوابات دیئے۔اس مجلس میں تین سواسی احباب شامل ہوئے۔جن میں اسی سے زائد غیر از جماعت معززین بھی تھے۔انہوں نے بہت توجہ اور انہماک کے ساتھ سوالات کے جوابات سنے۔آخر میں بذریعہ سلائیڈ ز بیرونی ممالک میں جماعت احمدیہ کی مساعی اور اس کے خوشکن ثمرات کی چند جھلکیاں پیش کی گئیں۔﴿21﴾ تربیتی اجتماع کوئٹہ مجالس انصار اللہ کوئٹہ کا سالانہ تربیتی اجتماع ۲۵ ستمبر ۱۹۸۱ء کو بعد نماز جمعہ منعقد ہوا۔صدارت کے فرائض مکرم مولوی غلام باری صاحب سیف ( مرکزی نمائندہ ) نے سرانجام دیئے۔تلاوت قرآن کریم کے بعد عہد دوہرایا گیا۔صاحب صدر نے اپنی افتتاحی تقریر میں تربیت اولاد کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی۔مکرم مولوی محمد بشیر صاحب شاد مربی سلسلہ نے تبلیغ کے دوران اللہ تعالیٰ کی معجزانہ تائید و نصرت کے واقعات بیان کئے۔مکرم مولوی روشن دین صاحب مربی سلسلہ نے ذکر الہی اور دعا کی اہمیت کے موضوع پر اور مکرم مولوی سفیر احمد صاحب نے آئندہ نسل کی تربیت کے زیر عنوان خطاب کیا۔اجتماع کا آخری نصف گھنٹہ سوال و جواب کے لئے مخصوص تھا۔سوالات کے جواب مکرم شیخ محمد حنیف صاحب ، مکرم سیف صاحب اور مکرم مولوی روشن دین صاحب نے دیئے۔سوال و جواب کا یہ پروگرام بھی بہت مفید اور دلچسپ رہا۔۲۵ ۲۶ ستمبر کو مختلف احمدی دوستوں کے ہاں بھی تقاریب منعقد ہوئیں جن میں بہت سے معززین مدعو