تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 387
۳۸۷ مسجد مکمل طور پر بھری ہوئی تھی۔خطبہ جمعہ میں آپ نے نظام کی اطاعت اور مالی قربانی جیسے اہم امور کی طرف توجہ دلائی۔شام کے وقت مکرم چوہدری محمد اعظم صاحب کی کوٹھی پر مجلس مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر پانچ صد سے زائد احباب شامل ہوئے جن میں نصف سے زائد علاقہ کے غیر از جماعت معززین، اساتذہ اور دیگر صاحب علم دوست تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے نہایت پرکشش انداز میں سلسلہ احمدیہ کے بارے میں سوالات و اعتراضات کے جوابات دیئے۔مذاکرہ کے بعد متعدد غیر از جماعت احباب نے بھی بڑے احترام کے ساتھ محترم میاں صاحب سے مصافحہ کیا۔﴿۵۹) ۲۹ مئی ۱۹۸۱ء کی صبح کو رائے پور پہنچنے کے بعد صدر محترم نے بھر پور انتہائی مصروف دن گزارا۔سب سے پہلے علاقہ کی مجالس کے زعماء اور عہدیداروں کے ساتھ ایک اور کنگ سیشن منعقد کیا۔مجالس کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور ہدایات دیں۔دو بجے سے تین بجے تک خطبہ جمعہ اور نمازیں جمع کر کے پڑھائیں۔سوا تین سے سوا چار بجے تک آپ نے بحیثیت سرپرست احمد یہ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن ضلع سیالکوٹ کے عہدیداروں اور طلباء سے ملاقات کی۔ساڑھے چار بجے سے ساڑھے چھ بجے شام تک مجلس سوال و جواب کی ایک دلچسپ نشست منعقد ہوئی۔زعماء کے اجلاس میں سب سے پہلے ناظم ضلع سیالکوٹ مکرم با بو قاسم الدین صاحب نے ضلع کی مجالس سے متعلق بنیادی کوائف پیش کئے۔صدر محترم نے ان کوائف کا مطالعہ وموازنہ کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جو کوائف پیش کئے گئے ہیں وہ بنیادی طور پر حقائق پر مبنی معلوم نہیں ہوتے۔عموماً جماعت اور مقامی مجالس کے اراکین کی تعداد چار اور ایک کی نسبت سے لے کر دس اور ایک کی نسبت تک پہنچتی ہے۔لیکن جن مجالس میں یہی نسبت ہیں اور ایک بلکہ پچھپیں اور ایک دکھائی گئی ہو، وہ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔لہذا سب سے پہلے زعماء کو اپنی مجالس کی تجنید سے متعلق جملہ کوائف درست اور صحیح درج کرنا ہوں گے۔ورنہ مجلس کی تمام رپورٹیں اور ساری کارکردگی مفروضوں پر مبنی ہوگی۔صدر محترم نے فرمایا کہ اسی طرح اگر چندہ مجلس کے بارے میں اعدادوشمار کا جائزہ لیں تو یہ بھی غلط ثابت ہورہے ہیں۔فی زمانہ کم از کم آمدنی تین صد روپے ہے۔لیکن یہاں پیش کئے گئے اعداد وشمار کا تجزیہ بتاتا ہے کہ کمانے والے انصار کی اوسط آمدنی اسی روپے فی کس بنتی ہے۔جو ہرگز درست اور قابل قبول نہیں۔لہذا ایسے اعداد وشمار اپنی رپورٹوں میں درج نہ کریں۔فی الحال یہ غلطی عمد انہیں کی گئی بلکہ بے احتیاطی سے ایسا ہوا ہے۔لہذا آئندہ زیادہ احتیاط کے ساتھ مجالس کو اعداد شمار تیار کرنا ہوں گے۔اگر کوئی عمداً ایسا کر رہا ہے تو یا در کھے کہ خدا تعالیٰ سے تو کوئی چیز چھپائی نہیں جاسکتی۔خدا تعالیٰ سے کنجوسی اور بخل کسی طرح بھی راس نہیں آتے۔ایسے لوگوں کے نہ تو مال میں