تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 362
۳۶۲ کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اس میں کوئی بھی شک نہیں کہ اگر خدا کا فضل شامل حال نہ ہو تو انسانی کوئی کوشش بھی بار آور ثابت نہیں ہوتی۔مگر اس میں بھی شک نہیں کہ خدا کا فضل کوششوں سے بڑھ کر دلوں کی مخفی نیتوں پر نازل ہوا کرتا ہے۔اگر انسانی کوششوں میں طاقت نہ بھی ہولیکن دل کی گہرائیوں سے وہ درد ناک آواز اُٹھے جو خدا کے فضل کو کھیچنے والی ہوتو یقیناً خدا کا فضل بھر پور صورت میں نازل ہوتا ہے اور کوششوں کو اس سے کوئی بھی نسبت نہیں رہتی۔پس یقیناً یہاں کے کارکنوں نے دعا کی طرف توجہ کی ہو گی۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام کہ میں تیرا گھر برکتوں سے بھر دوں گا، آپ کے اپنے گھر پر بھی صادق آتا ہے اور اُس گھر پر بھی جو آپ نے تعمیر کیا اپنے ماحول میں یعنی جماعت احمدیہ پر۔وہ روحانی گھر جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بنایاوہ سارے کا سارا اس الہام کا مصداق ہے اور خواہ کوئی ظاہری نسبت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے تعلق نہ بھی رکھتا ہو، اگر وہ روحانی تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جوڑے تو یقیناً وہ گھر کی چاردیواری میں شامل ہے چنانچہ عملاً اس کا ثبوت طاعون کے زمانہ میں ملا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِى الدَّارِ میں حفاظت کروں گا ہر اس شخص کی جو تیرے گھر میں ہے۔اور گھر میں تو صرف چند لوگ بستے تھے یعنی ظاہری لیکن روحانی گھر جو دور دراز تک وسیع تھا۔مشرق ، مغرب، شمال اور جنوب میں پھیلا ہوا تھا، سب طرف پھیلا ہوا تھا۔وہاں کے بسنے والے تمام مخلصین جماعت پر یہ الہام پوری طرح صادق آیا اور طاعون جو جھاڑو پھیر رہا تھا ، احمدیوں کے گھر اس طرح بچے ہوئے تھے جیسے سیلاب میں بعض چٹانیں ابھری ہوئی نظر آتی ہیں۔پس جب ہم کہتے ہیں کہ گھر سے مراد تمام اہل جماعت جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے روحانی تعلق حقیقی اور سچا روحانی تعلق جوڑتے ہیں، وہ لوگ ہیں تو اس میں کوئی بھی مبالغہ نہیں ، رحم اور فضل کا، یقینا یہ اس روحانی تعلق کی بنا پر ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جماعت احمد یہ راولپنڈی جو بڑی دیر سے کمزور جماعتوں میں شمار ہوتی چلی آئی ہے، اچانک اس میں یہ تبدیلی کیسے پیدا ہو گئی۔امر واقعہ یہ ہے کہ میرا جائزہ عمومی جماعتوں کے کام پر نظر رکھ کر یہی ہے کہ ہر جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخلصین موجود ہیں۔نیک بندے، قربانی کرنے والے سب یکساں پھیلے پڑے ہیں لیکن اگر ان سے کام لینے کے لئے کوشش نہ کی جائے اور پوری استعدادوں سے فائدہ نہ اُٹھایا جائے تو وہی جماعت نتیجہ خیز نہیں رہتی۔اچھی سے اچھی زمین پر اگر ہل چلا کر محنت کر کے، پانی دے کر اس زمین کے حقوق ادا نہ کیے جائیں اور تقاضے پورے نہ کیے جائیں تو اچھی فصل کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔اس لئے آنکھیں بند کر کے زمین پر لعن طعن