تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 16
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے فضلوں اور رحمتوں اور برکتوں کا وارث بنائے۔آمین انصار کا اصل کام تربیت کا ہے"۔ارشاد حضرت خلیفہ اسیح الثالث سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے ۲۴ اگست ۱۹۷۹ء کو خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہوئے انصار کو توجہ دلائی کہ ان کا اصل کام تربیت کا ہے اور انہیں یہ ذمہ داری دعاؤں کے ساتھ نبا ہنی چاہئیے۔حضور انور نے تشهد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: سال رواں کے ماہ رمضان کا یہ آخری جمعہ اور آخری روزہ ہے۔رمضان آج ختم ہورہا ہے لیکن رمضان کی ذمہ داریاں اور رمضان کی برکات ختم نہیں ہوتیں ماہِ رمضان کے خاتمہ پر۔بلکہ سارا سال چلتی ہیں۔یہ ایک قسم کا ریفریشر کورس ہے یعنی عادت ڈالی جاتی ہے بہت سی عبادات کی اور امید رکھی ہے کہ ایک مومن بندہ سارے سال ان اسباق کو جو رمضان میں دیئے جاتے ہیں بھولے گا نہیں۔انہیں یا در کھے گا اور ان پر عمل کرے گا۔۔۔۔خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ انسان ثبات قدم سے عمل کرتا رہے ان پر۔حالات کے مطابق شکل بدل جائے گی لیکن دل نہیں بدلے گا نہ نیتیں بدلیں گی۔”اس بنیادی سبق کو مد نظر رکھتے ہوئے اس وقت میں دو باتیں خدام کو، دو انصار کو اور دو باتیں جماعت کو کہنا چاہتا ہوں۔۔”انصار کو میں جو دو باتیں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہیں کہ عاجزانہ دعاؤں سے اپنے رب کو راضی کرو اور تمہارا اصل کام تربیت کا ہے۔اس کی طرف پوری توجہ دو تا کہ آنے والی نسلیں آنے والی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور نباہنے والی ہوں۔یہ تربیت گھر سے شروع ہوتی ہے۔اپنے بچوں اور لواحقین (DEPENDENTS) سے اور پھر ماحول کی وسعتوں میں پھیل جاتی ہے۔گھر سے گاؤں گاؤں سے علاقہ ، علاقہ سے ملک، ملک سے نکل کے سب بنی نوع انسان کو اپنے احاطہ میں لے لیتی ہے۔آپ پر پہلی ذمہ داری ہے دعائیں کرنا۔وہ دعائیں ہر ایک کے کام کے لحاظ سے اور ہر ایک کے ماحول کے لحاظ سے اور عمر کے لحاظ سے مختلف ہو جاتی ہیں۔ایک خادم کی دعا کا بڑا حصہ یہ ہے۔رَبِّ زِدْنِي عِلما ابھی وہ سیکھ رہا ہے۔علم دین بھی سیکھ رہا ہے۔علم اخلاقیات بھی سیکھ رہا ہے۔علم روحانیات بھی سیکھ رہا ہے۔وہ خدا سے کہے کہ اے خدا! تو نے مجھ پر خدمت کی ذمہ داری ڈالی لیکن اس کے لئے جن علوم کی مجھے ضرورت ہے کہ مجھے اخلاق