تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 286 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 286

۲۸۶ مکرم چوہدری احمد دین صاحب ( فیصل آباد) مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب (لاہور) مکرم چوہدری عبدالغفور صاحب (جھنگ) مکرم چوہدری محمد اسلم صاحب (سیالکوٹ)۔مکرم ملک لطیف احمد سرور صاحب ( شیخو پوره ) مکرم پروفیسر مجد طفیل صاحب (ساہیوال) ۱۳۔مکرم فضل الہی انوری صاحب (ربوہ) ا۔۱۲۔مقررہ سب کمیٹی کی رپورٹ مختلف مراحل میں سے گزر کر مجلس عاملہ مرکزیہ کے اجلاس منعقدہ ۷ اپریل ۱۹۸۰ء میں پیش ہوئی۔کمیٹی کی رپورٹ میں سے تجویز نمبر ۳ یعنی دستور اساسی کے قاعدہ نمبر ۹۲ بسلسلہ انتخاب صدر پر غور ہوا۔مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔آخر فیصلہ ہوا کہ صدر محترم خود حضور انور کی خدمت میں حاضر ہو کر اس بارہ میں ہدایت لے لیں۔﴿۲﴾ ایجنڈا کی بقیہ تجاویز کے سلسلہ میں کمیٹی کی رپورٹ اور فیصلوں کی تفصیل اس طرح ہے: ایجنڈا کی تجویز نمبر۲ قاعدہ نمبر ۴۳۔( مجلس شوری کا فیصلہ صدر کی منظوری کے بعد تمام مجالس کے لئے واجب التعمیل ہوگا) کے بارہ میں تھی۔اس قاعدہ میں ”صدر“ کی بجائے ” خلیفہ وقت“ کے الفاظ تجویز کئے گئے تھے۔سب کمیٹی نے سفارش کی کہ بایں الفاظ ایک نیا قاعدہ تشکیل دیا جائے۔”دستور اساسی کے مطابق مجلس عالمگیر کے اختیارات کے استعمال کا حق صرف مجلس شوری کو ہوگا۔نیز قاعدہ نمبر اے کو اس طرح تبدیل کر دیا جائے کہ دوران سال شوری کے کسی فیصلہ کو بدلنے کی اگر ضرورت پیش آجائے تو صدر مجلس کو خلیفہ وقت کی منظوری سے ایسا کرنے کا اختیار ہوگا۔“ سیدنا حضرت خلیفہ امسح الثالث نے سب کمیٹی کی سفارش پر ارشاد فرمایا کہ موجودہ قاعدہ قائم رہے گا۔انشاء اللہ خلیفہ وقت کے پاس اس کے ہوتے بھی شکایت کی جاسکتی ہے۔“ چنانچہ قواعد نمبر ۴۳ والے میں کوئی رد و بدل نہیں کیا گیا۔ایجنڈا کی تجویز نمبر۴ (( ب ، ج ) پر فیصلہ جات اس طرح سے تھے : (۱) قواعد نمبر ۵۳ اور ۱۵۲ ناظم ضلع کے انتخاب سے تعلق رکھتے تھے۔ان قواعد میں مطابقت پیدا کرتے ہوئے یہ انتخاب مرکز کی نگرانی میں منعقد کرانے کی تجویز ہوئی۔سب کمیٹی کی سفارش پر مذکورہ تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا۔نیز قاعدہ نمبر ۵۳ کے مطابق ناظم ضلع کے حلقہ انتخاب میں ضلع بھر کی مجالس کے زعماء اعلیٰ ، زعماء اور نمائندگان شوری