تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 285
۲۸۵ دستور اساسی مجلس انصار اللہ کا دستور اساسی سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی راہنمائی میں تیار ہوکر حضور انور کی منظوری سے پہلی مرتبہ ۲۱ اکتوبر ۱۹۵۷ء سے نافذ ہوا اور اپریل ۱۹۵۹ء میں شائع ہوا۔بعد میں وقتا فوقتا اس میں جو ترامیم ہوتی رہیں، انہیں دستور اساسی کے آئندہ ایڈیشنز میں شامل کیا جاتارہا۔دستور اساسی کا دوسرا ایڈیشن جولائی ۱۹۶۴ء میں اور تیسرا ایڈیشن مئی ۱۹۷۱ء میں طبع ہوا۔مجالس بیرون کی راہنمائی کے لئے دستور اساسی کا انگریزی ترجمہ ۱۹۶۸ء اور ۱۹۶۹ء میں شائع ہوا۔دستور اساسی کا چوتھا ایڈیشن اکتوبر ۱۹۷۸ء میں شائع ہوا اور اس وقت تک کی تمام ترامیم اور اضافہ جات اس میں شامل کر لئے گئے۔تاریخ دستور اساسی ۱۹۷۹ء تا ۱۹۸۲ء دو حضرت خلیفۃ المسح الثالث نے مئی ۱۹۷۹ء کودستوراسای کانیا قاعدہ نمبر ۲۰ منظورفرمایا جو یہ تھا۔پاکستان سے باہر ملک کا مشنری انچارج اُس ملک میں مجلس انصاراللہ کا نا ئب صدر ہوگا۔(1) مجلس شوری انصار اللہ مرکز یہ منعقدہ ۱۹۷۹ء میں مجلس عاملہ مرکز ی کی تجویز بر حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی منظوری سے دستور اساسی میں یہ اہم تبدیلی کی گئی کہ آئندہ زعیم اعلی ربوہ صدر مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے نامزد کردهہ اور مجلس عاملہ مرکزیہ کے رکن ہوں گے۔مجلس شوری ۱۹۷۹ء میں ہی ایجنڈا کی مذکورہ بالا تجویز نمبرا کے علاوہ مجلس شوری، انتخاب صدر اور انتخاب ناظم ضلع کے قواعد میں بھی کچھ تبدیلیاں تجویز کی گئیں۔ایجنڈا کی ان تجاویز (نمبر ۲ ،۴۳) پرتفصیلی غور کیلئے مجلس شوری نے مندرجہ ذیل تیرہ ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر کی نیز فیصلہ کیا کہ کمیٹی اپنی سفارشات صدر مجلس کی وساطت سے حضرت خلیفہ اسیح کی خدمت میں منظوری کے لئے پیش کرے۔ا مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب ( نائب صدر ) ۲۔۔مکرم پر و فیسر حبیب اللہ خان صاحب ( قائد تعلیم ) مکرم پروفیسر بشارت الرحمان صاحب ( قائد وقف جدید ) مکرم ڈاکٹر احمد حسن چیمہ صاحب (گجرات) - مکرم ڈاکٹر عبدالقادر صاحب ( گوجرانوالہ) مکرم میجر محمود احمد صاحب (سرگودھا)