تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 259 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 259

۲۵۹ سرسری جائزہ سے جو بات واضح طور پر غلط معلوم ہوتی ہے، اسے قبول نہیں کرنا چاہیئے۔بعض ناظمین نے کہا کہ پیشہ ور احباب کے بجٹ کی تشخیص میں دشواری ہے۔اس پر صدر صاحب نے فرمایا کہ آج کل کے لحاظ سے ایک مزدور کی کم از کم آمدنی ۲۵۰ روپے ہے۔راج کی ۲۵۰/۵۰۰ تک ہونی چاہئیے۔مجلس کا بجٹ چندہ عام کے بجٹ سے کم نہ ہو۔اگر کسی کا چندہ عام کا بجٹ کم ہے تو جماعت کو اس سے آگاہ کیا جائے۔اگر کوئی چندہ عام با شرح نہیں دے سکتا تو مرکز میں لکھ کر شرح میں کمی کی اجازت حاصل کرے۔اصل مقصد پیسہ اکٹھا کرنا نہیں بلکہ صحت مند روحانی جماعت پیدا کرنا ہے۔اگر کسی دوست کا جماعت میں بجٹ کم ہے تو مجلس میں اسی قدر رکھ لیں لیکن مرکز کو بھی لکھ دیں کہ اس کی آمد تو زیادہ ہے۔لیکن جماعت کے بجٹ میں اس کی یہ آم لکھی ہے لہذا ہم نے مجبوراً اتنی آمد ہی لکھ لی ہے۔شعبہ تربیت : نماز با جماعت کا قیام بہت بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔مجلس انصار اللہ کے اغراض و مقاصد میں سے نماز باجماعت کا قیام ہے۔اسی وجہ سے اس معاملہ میں سستی کرنے والی مجلس علم انعامی کی مستحق نہیں قرار پاسکتی۔اس ضمن میں اعداد وشمار کا تیار کرنا بڑی اہمیت کا حامل ہے۔یہ علم ضروری ہے کہ کہاں باجماعت نماز کے مراکز نہیں۔کون احباب نماز باجماعت میں سُست ہیں۔جن جگہوں میں نماز باجماعت کے مراکز نہیں۔امیر صاحب کو درخواست کر کے وہاں مراکز بنا ئیں۔نماز میں ست ممبران کو تیز کرنے کے لئے مستعد ممبران کی ڈیوٹی لگائی جائے۔اصلاح وارشاد: قائد صاحب اصلاح وارشاد کی طرف سے پروگرام کی ( جوالگ ہدایات کی صورت میں شائع ہو کر بھجوایا جا چکا تھا ) تفصیل سننے کے بعد صدر صاحب نے فرمایا کہ یہ تفصیل سننے کے دوران بعض چہروں کے اثرات سے لگتا تھا جیسے وہ یہ سوچ رہے ہوں کہ اس تفصیل کے ساتھ اتنا زیادہ کام کیونکر ہوسکتا ہے لیکن درحقیقت جو پروگرام پیش کیا گیا ہے یہ آخری مقصد ہے جس کو ہم نے انشاء اللہ بالآخر حاصل کرنا ہے۔اس کے لئے ہمیں رفتہ رفتہ کوشش کرنی پڑے گی۔مجلس انصار اللہ کے ہر رکن کی یہ دلی خواہش ہونی چاہیے کہ وہ اپنے پیچھے اپنا ایک روحانی بیٹا چھوڑے۔جو شخص کسی کام کو سمجھتا ہی ناممکن ہے وہ اس کے لئے کوشش ہی نہیں کرے گا۔لیکن جو کسی کام کو ممن سمجھتا ہے وہ کوشش کرے گا اور کر گزرے گا۔اصلاح وارشاد کا بھی بجٹ بنانے کی ضرورت: عہدیدار اس بجٹ کو پورا کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔دعاؤں کے ساتھ کام کریں۔اس کے لئے سب سے پہلے انصار کی تجنید کرنا بہت ضروری ہے۔ہر مجلس کے ساتھ دو یا تین دیہات معین کئے جائیں جہاں پر احمدیت کا بوٹا لگانے کی مجلس متعلقہ ذمہ دار ہو۔مجلس کے ذمہ جن دیہات کو سونیا جائے اس کی اطلاع مرکز میں دی جائے۔جس مجلس کے ذمہ معتین دیہات میں احمدیت کا بوٹا لگانے کا کام سپرد ہو، مہتم صاحب اصلاح وارشاد وہاں جا کر مشورہ کریں کہ اس جگہ احمدیت کے قیام کے لئے کن ذرائع کی ضرورت