تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 258 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 258

۲۵۸ آئے یا جن میں کام تسلی بخش نہ ہورہا ہو، ناظم صاحب ضلع وہاں پر اپنا نمائندہ بھجوائیں جو جا کر موقع پر حالات کا جائزہ لے کر معین رنگ میں مجلس متعلقہ کے ذمہ ایک یا دو کام لگائے اور پھر صرف انہی امور کے بارہ میں ان سے رپورٹ طلب کی جائے اور کار گذاری کا جائزہ لیا جائے اور مسلسل نگرانی کی جائے کہ جو کام سپر دکیا گیا ہے وہ حسب ہدایات سرانجام دیا جا رہا ہے۔ناظمین اضلاع ہر شعبہ کا DATA یعنی اعداد و شمار تیار کریں۔خصوصاً منفی اعداد و شمار پر زیادہ زور دیا جائے مثلاً ناخواندہ ممبران کی کیا تعداد ہے؟ نماز کا ترجمہ نہ جاننے والوں کی کتنی تعداد ہے؟ نماز باجماعت میں شستی کرنے والوں کی کتنی تعداد ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔پھر اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اعداد و شمار کے چارٹس میں یہ منفی اعداد آہستہ آہستہ کم ہوتے جائیں۔ہر مہینے ان کا بغور مطالعہ اور مواز نہ ہونا چاہئیے۔ناظم صاحب ضلع یا ان کی مجلس عاملہ کے رکن یعنی مہتم صاحب شعبہ جو بھی خط مجالس کو تیز کرنے کے ضمن میں لکھیں ان کی نقل صدر صاحب مجلس کو بھجوائیں۔( نوٹ از مرتب : اُس وقت ضلعی مجلس عاملہ کارکن مہتم کہلاتا تھا۔۱۹۸۳ء سے یہ عہدہ نائب ناظم ضلع ہے۔) انصار کو دعاؤں پر زور دینا چاہئیے۔انسان بعض اوقات روزمرہ کے امور کے بارہ میں دعا کرنا بھول جاتا ہے جس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔حالانکہ ہر چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے بھی دُعا کی ضرورت ہے۔نیز حضرت خلیفہ اسیح کے ساتھ براہ راست رابطہ اور اپنا پروگرام لکھ کر دعا کی درخواست کرتے رہنا بہت ضروری ہے۔مذکورہ بالا عمومی ہدایات کے علاوہ صدر محترم نے دیگر شعبہ جات کے بارہ میں جو ہدایات فرمائیں اُن کا خلاصہ درج ذیل ہے: شعبه مال: قائد صاحب مال نے اوسط فی کس آمدنی کا ضلع وار گوشوارہ پیش کیا جس پر صدر محترم نے فرمایا کہ اس گوشوارہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آمد صحیح تشخیص نہیں کی جاتی اس کی وجوہ اگر تو یہ ہیں کہ (۱) علم انعامی حاصل کرنے کے لئے بجٹ کم بنایا جائے تاکہ سوفی صدی پورا کر کے انعام کے مستحق ٹھہر سکیں تو یہ احمدیت کی رُوح کے منافی ہے۔اصل انعام تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے۔پس اگر نا جائز ذریعہ سے غلط بیانی کر کے کوئی مجلس علم انعامی حاصل بھی کر لیتی ہے تو یہ انعام اسے خدا تعالیٰ کی خوشنودی کا مستحق نہیں بنا سکتا۔پس مجالس کو چاہئیے کہ بجٹ آمد کے مطابق بنائیں۔اگر باوجود کوشش کے سوفی صدی ادا ئیگی نہیں ہوتی تو وہ وجو ہات لکھ دیں۔(۲) دوسری وجہ یہ ہے کہ اعتماد کیا جاتا ہے جو کسی نے لکھایا، وہ لکھ لیا۔یہ بھی نامناسب ہے۔نظری اور