تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 219 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 219

۲۱۹ سے کہے کہ ابا آپ نے تو مجھے صرف چار آنے دیئے تھے۔تو چار آنے کے حساب سے ایک آنہ میں واپس کر دیتا ہوں۔تو یا تو وہ بچہ پاگل ہو گا یا اپنے باپ کو پاگل سمجھ رہا ہوگا لیکن یا درکھو اپنے رب کو کوئی دھو کہ نہیں دے سکتا۔کوئی آدمی خدا کو کس طرح دھوکہ دے سکتا ہے؟۔پھر ایسی جرات ہی کیوں کرتا ہے جو خدا کو دھوکا دینے کے مترادف ہو۔دراصل اس کا نفس اُسے دھوکا دیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں خدا کو تو دھوکا نہیں دے سکتا لیکن یہ نا سمجھ چندہ لینے والے جو خدا کی نمائندگی کر رہے ہیں ، ان کو تو دھوکا دے ہی سکتا ہوں۔پس وہ خدا کو براہ راست دھوکہ دینے کی بجائے اس کے مومن بندوں کو دھوکہ دے کر گویا بالواسطہ خدا کو دھوکہ دیتا ہے۔ایسے لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو دھو کے دینے والوں میں ہی اپنے ماننے والوں کو دھوکا دینے والوں کو بھی شامل کر لیا۔قرآن کریم کا یہ بہت ہی عظیم الشان نکتہ ہے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے۔يُخْدِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا کہ اللہ ہی کو نہیں اُن لوگوں کو بھی وہ دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو ایمان لائے ہیں۔مراد یہ ہے کہ اللہ کو تو ویسے کوئی دھوکا دے ہی نہیں سکتا۔کوئی اس کا سوچ بھی نہیں سکتا۔اصل نفسیاتی مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ایمان لانے والوں کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں جو عملاً خدا کو دھوکا دینا ہوتا ہے۔تو خدا فرماتا ہے نہ تم اللہ کو دھوکا دے سکتے ہو اور نہ ان لوگوں کو دے سکتے ہو جو ایمان لائے ہیں۔خدا تعالیٰ سے جھوٹ نہیں بولنا۔آمد صحیح بتا ئیں پس ایسے بجٹ بھی میرے علم میں آئے ہیں کہ احمدیوں کی اوسط آمد بعض ضلعوں کی ایک سو چھ روپے ماہانہ بنتی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ مسیح موعود کی جماعت تو ایتاء کے لئے بنائی گئی تھی نہ کہ فقیر بنے کے لئے۔خدا تعالیٰ تو جماعت پر اتنے فضل فرماتا ہے، اموال میں اتنی برکت دیتا ہے، اتنی رحمتیں کرتا ہے کہ آپ زکو تیں دینے کے بعد ٹیکس دینے کے بعد لازمی اور طوعی چندے دیتے ہیں۔لیکن مذکورہ اضلاع کے بجٹ کی رو سے اگر ایک احمدی کی اوسطا ایک سوچھ روپے ماہانہ آمد ہے تو ایسے لوگ تو زکوۃ لینے والے بن گئے۔کتنی بڑی ناشکری ہے اور کتنا بڑا بہتان ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت پر کتنا بڑا الزام ہے اللہ کی رحمتوں پر کہ مسیح موعود کی جماعت ایک ضلع میں ساری کی ساری زکوتی بن گئی ہو یعنی زکوۃ لینے والی بن گئی ہے دینے والی نہیں۔حالانکہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تم تو وہ بہترین امت تھے جس کو اس دنیا میں دوبارہ زندہ کیا گیا ہے تاکہ ساری دنیا پر احسان کرو اور ہر قسم کا فیض تمہاری طرف سے اُن کی طرف جاری ہو۔ہوا بھی یہی ہے کہ خدا نے تو فضل کئے ہیں مگر آمد چھپانے والوں کے دل میں خیال ہی نہیں کبھی آیا کہ ہم