تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 195
۱۹۵ پانی پتی لاہور، مکرم راجہ نذیر احمد ظفر صاحب ربوہ، مکرم میاں محمد افضل صاحب ایران، مکرم چوہدری ہدایت اللہ صاحب بنگوی انگلستان، اور مکرم منور شمیم خالد صاحب قائد عمومی مجلس شوری کی بھاری اکثریت نے اس بات کے خلاف رائے دی کہ قاعدہ نمبر ۱۶۵ میں مجوزہ تبدیلی کا کام بھی نئی کمیٹی کے سپر د کر دیا جائے اور یہ فیصلہ کیا کہ اس قاعدہ کو مندرجہ ذیل الفاظ میں بدل کر منظور کر لیا جائے۔زعیم اعلیٰ کا انتخاب مرکزی نمائندے کی نگرانی میں ہو گا۔“ سالانہ اجتماع اور ربوہ کے انصار: اس کے بعد ایجنڈا کی تجویز نمبر ۳ زیر غور آئی جس کے الفاظ یہ ہیں ربوہ کے انصار کو اجتماع کے دوران کھانے میں شامل کرنے سے متعلق مجلس شوری نے گذشتہ سال ایک سب کمیٹی کے سپرد یہ معاملہ غور کرنے کے لئے پیش کیا تھا۔اس سلسلے میں مکرم صدر صاحب سب کمیٹی اپنی رپورٹ برائے غور پیش کریں گے۔“ مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر سب کمیٹی اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس سب کمیٹی کے سپر د دو معاملے کئے گئے تھے۔ایک دستور اساسی کی شق نمبر ۱۶۵ پر غور اور دوسرے اجتماع کے موقع پر ربوہ کے لئے کھانا فراہم کرنے کا مسئلہ۔اجتماع کے موقع پر ربوہ کے انصار کے لئے کھانے کا انتظام کرنے کے سلسلے میں سب کمیٹی کی سفارش یہ تھی کہ چونکہ ربوہ کے انصار کو اجتماع کے دوران کھانے میں شامل کرنے کے لئے بجٹ میں خاصا اضافہ کرنا ضروری ہے جس کی ابھی گنجائش نہیں ہے اس لئے سر دست ہر سال صدر محترم خود ایسے انصار کا مناسب کوٹہ مقرر کر دیں کہ جن کے لئے گھروں پر جا کر کھانا مشکل ہو۔ایسے انصار کے لئے کھانا مہیا کر دیا جایا کرے۔اس تجویز پر مندرجہ ذیل نمائندگان نے اپنی آراء پیش کیں۔مکرم چوہدری محمد اسحاق صاحب لاہور، مکرم ملک محمد الدین صاحب تر گڑی، مکرم ملک عبد اللطیف صاحب ستکو ہی لاہور، مکرم سید عبدالغفور شاہ صاحب شیخو پورہ، مکرم را نا عطاء اللہ صاحب حیدر آباد، مکرم غلام احمد صاحب چغتائی مظفر گڑھ، مکرم خلیق عالم صاحب فاروقی کراچی، مکرم خواجہ وجاہت احمد صاحب کراچی ، مکرم اعجاز احمد صاحب ایاز کا چیلو سندھ، مکرم منیر احمد صاحب سرگودھا، مکرم محمد برہان شاہد صاحب ، مکرم میاں محمد افضل صاحب ایران اور مکرم محمد سلیم صاحب ربوہ۔مکرم خواجہ وجاہت احمد صاحب کراچی اور مکرم غلام احمد صاحب چغتا ئی مظفر گڑھ کی طرف سے چندہ سالانہ اجتماع کی شرح بڑھانے کے بارہ میں مختلف ترامیم بھی پیش ہوئیں۔بحث کے دوران صدر محترم نے بعض نہایت اہم امور پر روشنی ڈالی۔آپ نے فرمایا کہ نمائندگان کو یہ امر ملحوظ رکھنا چاہئیے کہ جس تجویز کا اثر بجٹ پر پڑتا ہو، اس پر رائے دیتے وقت انہیں یہ بھی بتانا چاہیئے کہ اس طرح بجٹ میں متوقع اخراجات کی رقم کہاں سے مہیا کی جائے گی۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر مجالس اپنا بجٹ تیار کرتے