تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 189 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 189

۱۸۹ امن اور محبت سے تبلیغ کرو گے لیکن اس کے نتیجے میں مشکلات ضرور پیدا ہوں گی اور شدید پیدا ہوں گی۔اور خدا وعدہ کرتا ہے کہ میں بچاؤں گا کیونکہ خدا کے سوا تمہیں کوئی بچانہیں سکے گا۔تبلیغ کے ساتھ دعا کا چولی دامن کا ساتھ ہے دوسرا پہلو اس میں یہ ہے کہ مومن کے لئے پیغام کہ جب خدا وعدہ کرتا ہے تو اس وقت خدا ہی کی طرف جھکنا۔دُنیا کی طرف نہ جانا کیونکہ تمہارے لئے مفر اور کوئی نہیں۔بچنے کی اور کوئی جگہ نہیں۔کوئی پناہ گاہ نہیں ہے اللہ کے سوا۔پس اس وقت تمہارے بچنے کا طریق دعائیں ہے۔اور حقیقت یہی ہے کہ تبلیغ کے ساتھ دعا کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ایک مبلغ مبلغ بن ہی نہیں سکتا جب تک بار بارا اپنے رب کی طرف اس کی توجہ پیدا نہ ہو اور اپنے رب سے مدد نہ چاہے۔اور مشکلات اس تعلق میں مدد دیتی ہیں۔وہ مبلغ جس کا راستہ آسان ہو، اس کو دعا کی طرف ایسی توجہ پیدا نہیں ہوتی جتنی ایسے مبلغ کو ہوتی ہے جس کو بار بار مصائب تنگ کرتے ہیں۔دکھ پہنچتے ہیں۔گالیاں دی جاتی ہیں۔وہ محبت اور پیار میں ان کو پیغام پہنچاتا ہے۔وہ دشمنیاں جھولی میں بھر کر گالیوں اور پتھروں کی صورت میں اس پر برساتے ہیں۔اس وقت خدا یاد آتا ہے اور جتنا خدا یاد آتا ہے اتنا ہی تبلیغ میں طاقت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔تبلیغ کے اندر غیر معمولی عظمت آ جاتی ہے۔ورنہ خالی انسانی باتوں سے تبلیغ کامیاب نہیں ہوا کرتی۔اس میں یعنی مصیبتوں میں جو مومن کو تبلیغ کے نتیجہ میں دیکھنی پڑتی ہیں۔حکمت یہ ہے کہ حقیقت میں مومن دنیا کی تقدیر بدل سکتا ہی نہیں۔بالکل ایک کمزور چیز ہے۔اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔اور دنیا اتنی سخت اور ظالم ہو چکی ہوتی ہے کہ ان کے دلوں پر بھی اس کا بس نہیں ہوتا نہ ان کے دماغوں پر بس ہوتا ہے۔بس کس کا ہوتا ہے؟ خدا تعالیٰ کا۔اور مومن کے دل کی آہیں ہیں جو خدا تعالیٰ کے رحم کو بھینچتی ہیں اس وقت اور وہ اس کی خاطر مدد کو آتا ہے اور دنیا کی تقدیر بدلا کرتا ہے۔اور یہ آہیں اس دشمنی سے پیدا ہوتی ہیں۔اگر یہ دشمنی کا PHENOMENON نہ ہو اور تبلیغ کا رستہ آسان ہو جائے تو انبیاء کی موومنٹس (MOVEMENTS) از خود اپنی موت مر جائیں۔یہ دشمنیاں ہی ہیں جو تعلق باللہ کو قائم رکھتی ہیں اور مومن کو ایسی چکی میں سے گزارتی ہیں جس سے ان کی زندگی میں فنا کی بجائے بقا پیدا ہو جاتی ہے۔وہ ہمیشگی پا لیتے ہیں۔ان موتوں سے جو وہ روز دیکھتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ۔جب بچانا خدا نے ہے اور تمہیں یہ بھی اختیار نہیں کہ تبلیغ چھوڑ کے بچ جاؤ۔تو پھر لازمأخدا کی طرف متوجہ رہنا اور وہ تمہیں ضرور بچائے گا۔دُعا اور مشکلات کا مفہوم