تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 190 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 190

۱۹۰ پس دُعا اور مشکلات کا مفہوم جو اس ( آیت ) میں بتایا گیا اس مفہوم کو اور طریق سے اللہ تعالیٰ نے دوسری آیات میں کھول دیا ہے۔مثلاً جو آیات ابھی آپ کے سامنے تلاوت کی گئی ہیں۔ان میں آخر پر نہیں 1 ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيُّ حَمِيمٌ ( حم السجدة آیت ۳۵) تبلیغ کا یہاں بھی حکم دیا۔ساتھ ہی عداوت کا بھی ذکر کر دیا کہ جب تبلیغ کرو گے تو تمہارے متعلق شدید دشمنیاں پیدا ہو جائیں گی۔لیکن دشمنیاں پیدا کرنا تبلیغ کا مقصود نہیں ہے۔اور تمہاری طرف سے پیدا ہو رہی ہیں۔اور ان دونوں باتوں کا جواب آگے دے دیا۔فرماتا فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَانَهُ وَلِيُّ حَمِيمٌ اگر تم ہر برائی کا بدلہ حسن سے دو گے، ہر ظلم کا بدلہ احسان سے دو گے تو تمہارا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں محبت اور دوستیاں اور پیار کا ماحول قائم ہو اور ان کا مقصد دشمنیاں پیدا کرنا ہے۔یہ ہم تمہیں بتاتے ہیں، لاز ما تم جیتو گے اور دشمنیاں ہار جائیں گی۔نتیجہ یہ نکلے گا فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ اچانک تم کیا دیکھو گے کہ تمہارے اور ایک ایسا شخص جس کے درمیان بظاہر شدید عداوت پائی جاتی ہے۔اچانک اس کا دل پھر جائے گا اور وہ بے حد محبت کرنے والے دوست میں تبدیل ہو جائے گا۔وَلِی حَمِیعُ کا مطلب فدائی دوست جو اپنی جان چھڑ کنے کے لئے تیار ہو۔صبر کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوتا ہے تو مقصد مبلغ کا دشمنیاں پیدا کرنا نہیں ہوتا۔ہاں دشمنیاں راستے کے کانٹے ضرور بنتی ہیں اور آخری مقصد محبت کی جنت تک ساری دنیا کو پہنچانا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس جنت تک ضرور پہنچو گے لیکن ایک شرط ہے۔وہ شرط کیا ہے؟ وَمَا يُلَقَّهَا إِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّهَا إِلَّا ذُو حَظِّ عَظِيْهِ ( حم السجدۃ آیت : ۳۶) اس راہ میں صبر کرنا پڑتا ہے۔اور صبر بھی اسی لئے کہ صبر کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کی طرف انسان جھکتا ہے۔صبر ایسی کیفیت کا نام ہے۔(ایک پہلوصبر کا یہ ہے ) کہ انسان اپنے آپ کو ایسا بے بس دیکھے کہ اپنی طرف سے کچھ نہ کر سکے۔وہ بے بسی جو غم پیدا کرتی ہے اس کا نام صبر ہے اور ایسا دکھ جس سے چارہ کوئی نہیں۔مومن اس وقت اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور صبر کی طاقت سے اس کی دعاؤں کو رفعت ملتی ہے۔اگر صبر نہ ہو تو دُعاؤں میں کوئی طاقت نہیں۔جو مثلاً گالیاں دینے لگے، جو دل کی بھڑاس وہاں نکال لے گا وہ کیا چیز ہوگی جو رات کو وہ خدا کے حضور سجدوں میں نکالے گا۔دن کے رُکے ہوئے آنسو ہوتے ہیں جو رات کو آنکھوں سے برسا کرتے ہیں۔پس صبر کے نتیجے میں ہی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوتا ہے۔تو یہاں بھی دراصل اور رنگ