تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 120
مشین بازار سے لی گئی۔۳۱ اکتوبر کو جن احباب نے مترجم کا کام کیا ان میں مکرم نسیم سیفی صاحب، مکرم خان بشیر احمد رفیق صاحب، مکرم مجیب الرحمن صاحب ایڈووکیٹ اور مکرم شکیل صاحب شامل ہیں۔۴۲ ) ١٩٨١ء صدر محترم کا پیغام۔مجالس انصاراللہ کے نام نئے سال ۱۹۸۱ء کے آغاز پر صدر محترم نے مجالس کو ایک ولولہ انگیز پیغام ہدف عمل عطا کرتے ہوئے فرمایا: ” برادران کرام السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکات حسب سابق امسال بھی قائدین مجلس انصار اللہ نے خدا تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اور اس پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے لئے اور مجالس کے لئے جو لائحہ عمل تجویز کیا ہے، وہ مطمح نظر کے لحاظ سے بلند اور کام کے پھیلاؤ کے لحاظ سے بہت وسیع ہے اور اس کے تمام پہلوؤں پر کماحقہ عمل درآمد کرنا اور کروانا کوئی آسان کام نہیں۔بڑی بڑی مجالس میں سے بھی کئی مجالس اسکی اہل نظر نہیں آتیں کہ اس لائحہ عمل کے تمام تقاضوں کو پورا کر سکیں۔چھوٹی اور دیہاتی مجالس کے لئے تو اور بھی زیادہ بعید از امکان نظر آتا ہے کہ وہ اتنے وسیع اور متنوع پروگرام کے تمام پہلوؤں پر عمل پیرا ہوسکیں پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اتنا وسیع اور بلند سطح نظر مقرر ہی کیوں کیا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ترقی کرنے والی بلند ہمت قوموں کا مطمح نظر بلند ہی ہوتا ہے اور بلند ہی ہونا چاہئے۔مسلسل اور لامتناہی ترقی کا راز مطمح نظر کی بلندی ہی میں مضمر ہے جو اس بات سے قطع نظر بنایا جاتا ہے کہ کتنے افراد اس کے آخری نکتہ عروج تک پہنچ سکتے ہیں۔قرآن کریم ہی کو لیجئے انسان کے لئے ایسا عظیم الشان، اتنا وسیع ،اتنا بلند پای لح نظر پیش فرماتا ہے کہ الا ماشاء اللہ نظر اس کا احاطہ نہیں کر سکتی۔تعلیم قرآن کریم کے صرف اختلافی پہلو ہی کو لے لیجئے تو فی الحقیقت وہ صرف ایک ہی تو ہے۔یعنی انسان کامل۔جس کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ قرآن کریم کے پیش کردہ مطمح نظر کو اول درجہ میں حاصل کرنے والوں کی تعداد کا کسی قدر اندازہ قرآن کریم کی اس آیت کریمہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ تلةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِنَ الْآخِرِينَ یعنی اولین میں سے ایک جماعت اور آخرین میں سے بہت تھوڑی تعداد میں لوگ اس عالی مرتبہ کو حاصل کر سکیں گے۔