تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 121
۱۲۱ اس امر پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ مطمح نظر ہمیشہ بلند ہونا چاہئے لیکن اس مطمح نظر کے حصول کے لئے جو لائحہ عمل بنایا جائے اس میں یہ لچک ہونی چاہئے کہ مختلف مراتب اور قوتوں کے لوگ اپنی اپنی توفیق کے مطابق اس پر کسی نہ کسی حد تک عمل پیرا ہوسکیں۔مجلس انصار اللہ مرکز یہ بھی اسی بنیادی راہنما اصول کے پیش نظر مطمح نظر مقرر کرتی ہے اور لائحہ عمل تجویز کرتی ہے اور ہر مجلس سے اپنے اپنے مقام اور توفیق کے مطابق اس پر عمل پیرا ہونے کی توقع رکھتی ہے۔ایک چھوٹی سی ان پڑھ دیہاتی مجلس اگر اپنے ممبران کو باترجمہ نہیں تو ناظرہ قرآن کریم ہی پڑھانے کا انتظام کرے۔اگر سارا نہیں تو ایک پارہ قرآن کریم ہی پڑھانے میں کامیاب ہو جائے۔اگر سب ممبران کو نہیں تو چند کو۔چند نہیں تو ایک ہی کو کچھ ناظرہ قرآن پڑھایا جا سکے تو بھی ہم اس لحاظ سے اطمینان کا سانس لے سکتے ہیں کہ شعبہ تعلیم میں اس مجلس نے یقینی طور پر ایک قدم تو آگے بڑھا دیا۔دیگر شعبہ جات میں بھی ہر مجلس سے اس کے حالات اور استطاعت اور توفیق کے مطابق ہی توقع رکھی جاتی ہے۔اگر چہ بلند سے بلند تر معیار کی کوئی حد نہیں مگر کم سے کم معیار یہ سمجھنا چاہئے کہ تمام دنیا میں ایک مجلس بھی ایسی نہ رہے جو کسی شعبہ میں امسال بھی گذشتہ سال کے معیار پر کھڑی رہ جائے اور ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا سکی ہو۔پس آگے بڑھیں اور ہر شعبہ میں آگے بڑھیں۔سال تو دور کی بات ہے۔کوئی مہینہ ایسا نہ گزرے جو آپ کو اسی مقام پر کھڑا پائے جہاں گزرے ہوئے مہینہ میں آپ کو دیکھا تھا۔کوئی ہفتہ ایسا نہ آئے جو آپ کو اسی حالت میں آ پکڑے جو گزشتہ ہفتہ میں آپ کی حالت تھی۔بلکہ اعلیٰ درجہ کی مجالس سے تو کم سے کم توقع یہ ہے کہ آپ پر کوئی سورج غروب نہ ہو جو گذری ہوئی شام کے سورج کی نسبت آپ کو ہر پہلو سے آگے بڑھا ہوا نہ دیکھے اور کوئی سورج ایسا طلوع نہ ہو جو یہ گواہی نہ دے سکے کہ آپ گزری ہوئی صبح کے مقابل پر ایک بلند تر اور روشن تر مقام پر فائز ہیں۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔آخر پر میں صرف اتنا کہوں گا کہ ہر کام میں اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ دعاؤں کے ذریعہ مدد مانگنا نہ بھولیں۔یادرکھیں کہ یہ دعائیں ہی ہیں جو عاجز بندوں کی حقیر کوششوں کو برکت دیتی اور رفعت بخشتی ہیں۔اور یہ دعائیں ہی ہیں جو بے ثمر درختوں کو بھی بار آور کر دیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔آمین ، ۲۳ دفتری امور سے متعلق صدر محترم کی زریں ہدایات سال ۱۹۸۱ ء کے لئے صدر محترم نے مکرم پروفیسر منور شیم خالد صاحب کو قائد عمومی مقررفرمایا تھا۔انہوں