تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 112
۱۱۲ کی سچی توحید کے قیام کے لئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو دلوں میں گاڑنے کے لئے ہو رہا ہے۔پہلے میں افریقہ کے ان دو ملکوں کو لیتا ہوں جن میں میں گیا اس سفر میں۔بہت پھرا ، ہمیں تمہیں ہزار میل کا غالبا سفر کیا ہے میں نے ان دنوں میں، پھر بھی ہر جگہ نہیں جاسکا۔مغربی افریقہ کے بہت سے ملکوں میں دل کرتا تھا کہ جاؤں جہاں نصرت جہاں سکیم، جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے جاری کی گئی تھی ، کام کر رہی ہے۔صرف نائیجیریا اور غا نا میں جاسکا۔نائیجیریا میں انقلاب عظیم ذہنی طور پر بپا ہورہا ہے نائیجیریا میں جو انقلاب عظیم ذہنی طور پر بپا ہو رہا ہے، اُس کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے۔ایک مثال میں لیتا ہوں ظاہر کی۔جس وقت ہم وہاں پہنچے یعنی ہوائی جہاز سے اتر کے آئے تو اس قدر اللہ کے فضل سے اور اللہ ہی کے نام کو بلند کرنے کے لئے ہجوم جمع تھا کہ میرے اندازہ سے بھی کہیں زیادہ تھا۔کیونکہ دس سال پہلے میں اسی ہوائی اڈے پر اترا تھا اور اس وقت وہاں چند سو سے زیادہ احمدی نہیں تھے اور اس بار با وجودرات ہو جانے کے ہزار ہا احمدی نمائندے ( ہر جگہ کے نمائندے حاضر بھی نہیں تھے کیونکہ بہت بڑا ملک ہے وہ ) وہاں پر موجود تھے اور بڑا جوش اور جذبہ تھا اُن میں۔اور دیکھنے والی آنکھ نے اور ر پورٹ کرنے والی قلم نے یہ بیان کیا یعنی وہ آنکھ اور وہ قلم جس کا احمدیت سے تعلق نہیں۔ادھر اُدھر رپورٹیں جاتی رہتی ہیں نا کہ اس وقت وہ زبر دست استقبال ہوا کہ آج تک نائیجیریا میں کسی سربراہ مملکت کا بھی ویسا استقبال نہیں ہوا۔یہ جو کچھ بھی ہوا وہ مرزا ناصر احمد کے لئے نہیں ہوا بلکہ اللہ اور اُس کے رسول کے ایک ادنیٰ خادم کے لئے ہوا۔۔۔۔صرف جماعت احمدیہ ہے جو عیسائی مشنریز کا مقابلہ کر سکتی ہے تیسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نائجیر یا وہ ملک ہے جہاں آج سے دس سال پہلے غلط فہمیوں اور عدم علم کے نتیجہ میں بہت سی بدظنیاں اور بدمزگیاں پیدا ہوگئی تھیں جماعت احمدیہ کے خلاف۔۔حالات بدلتے رہتے ہیں ملکوں میں۔اُن کے حالات بھی بدلے اور اب یہ حال ہے، ایک میں مثال دوں گا یوں تو بہت سی مثالیں ہیں۔میں یہاں سے جب جانے لگا دورے پر تو ، نائیجیریا سے ایک خط ملا جس کا میں نے کہا، جواب دے دیں۔پھر سفر میں مجھے خط ملا اور خط یہ تھا، ( یہ تبدیلی جس کو میں ذہنی انقلاب کہتا ہوں اس سے اس کا پتہ لگتا ہے ) انہوں نے لکھا کہ فلاں صوبے میں آبادی کی نسبت کچھ اس طرح ہے کہ ایک تہائی مسلمان ہیں، ایک تہائی عیسائی ہیں اور ایک تہائی بُت پرست ہیں۔عیسائی پادری بت پرست لوگوں میں مشنری کام کر رہے ہیں، انہیں عیسائی بنا رہے ہیں اور مسلمانوں میں کوئی