تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 109 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 109

1+9 دوست محمد صاحب شاہد مورخ احمدیت نے نہایت بصیرت افروز واقعات پر مشتمل تقاریر فرمائیں۔مکرم مولانا عبدالمالک خان صاحب نے مکرم مولا نا چراغ الدین صاحب کا مضمون بھی پڑھ کر سنایا کیونکہ انہیں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے طلب فرما لیا تھا۔اس کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، مکرم مولا نا عبدالمالک خان صاحب، مکرم ملک سیف الرحمان صاحب ، مکرم سید احمد علی شاہ صاحب اور مکرم صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب پر مشتمل ایک بورڈ نے حاضرین جلسہ سے سوالات کئے اور تسلی بخش جوابات نہ ملنے پر بعض سوالات کی وضاحت فرمائی۔ورزشی مقابلے شام ساڑھے چار بجے ورزشی مقابلے ہوئے جن میں رسہ کشی ، والی بال، میوزیکل چیئر اور دوڑ سوگز شامل ہے۔نتائج درج ذیل رہے: رسہ کشی: اول پنجاب، دوم کراچی سرحد والی بال : اول ر بوه ، دوم پنجاب۔میوزیکل چیئر : اول منظور احمد صاحب قریشی لاہور ، دوم محمد یوسف صاحب حیدر آباد، سوم محمد یوسف صاحب چک ۳۸ جنوبی ضلع سرگودھا۔سوگز کی دوڑ: اول: جمیل احمد صاحب طاہر ربوہ ، دوم نائب صوبیدار منظور احمد صاحب ربوہ ،سوم نذیراحمد صاحب ربوہ۔اجلاس چهارم رات آٹھ بجے اجلاس چہارم تلاوت قرآن کریم سے شروع ہوا جو کہ مکرم مولوی فضل الہی صاحب انوری نے کی۔مکرم حکیم نذیر احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود کی نظم ” جو خاک میں ملے اسے ملتا ہے آشنا سنائی۔آٹھ بج کر دس منٹ پر مکرم مسعود احمد صاحب جہلمی نے انصار اللہ کی ذمہ داریاں“ کے عنوان پر ایک مؤثر تقریر کی۔آپ نے کہا کہ انصار اللہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ خلیفہ وقت کی تحریکات پر نہ صرف خود عمل کریں بلکہ عمل کروائیں۔خصوصاً قرآن کریم کے انوار سے خود کو منور کر کے مجسم نور بن جائیں اور پھر معلم کی حیثیت سے ساری دنیا کو قرآنی علوم سے منور کر دیں۔اس تقریر کے بعد آٹھ بج کر تمیں منٹ پر مکرم مجیب الرحمن صاحب ایڈووکیٹ نے تربیت اولاد کے موضوع پر ایک پُر مغز تقریر فرمائی۔آٹھ بج کر پینتالیس منٹ پر مکرم ملک مبارک احمد صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تبلیغ کے عنوان سے تقریر فرمائی۔اس تقریر کے بعد رات دس بجے تک حضورانور کے حالیہ با برکت دورہ کی چند جھلکیاں حاضرین کو دکھائی گئیں جو تازگی ایمان کا موجب بنیں۔