تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 79 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 79

۷۹ لحاظ سے محمد ود دماغ تھے اور بڑے دنیوی دماغ اور زمینی دماغ تھے ، اس کے مطابق خدا اُن کو نشان دکھا رہا تھا اور اسلام کی طرف اُن کو بلا رہا تھا۔ایک دفعہ مجھے خیال آیا کہ اپنے اس طرف کے بزرگوں کے بارہ میں تو ہم بہت کچھ پڑھتے رہتے ہیں ، ہمارے علم میں آتا ہے۔تو بنگلہ دیش میں جو اصولاً ایک حصہ ہے پاکستان کا کہ ہمارے ملک کا وہ بھی حصہ ہے، وہاں کے جو بزرگ ہیں، اُن کے متعلق بھی کچھ پڑھا جائے تو میں نے اُن کے متعلق کچھ کتابیں لے کے پڑھیں۔وہاں ایک بڑے بزرگ تھے۔بڑے بے نفس انسان، جنگل میں ڈیرہ لگا کے بیٹھ گئے۔سینکڑوں آدمی اُن کے گرد جمع ہو گیا۔اُس علاقے کے راجہ کے بیٹے بھی اُن کے اثر کے نیچے آگئے۔راجہ ہندو تھا۔اُس کے مصاحبوں نے کہا کہ یہ تو مسلمان ہو جائیں گے۔ان کی فکر کرو۔اُن کا اثر بڑا تھا۔کچھ کر نہیں کر سکتا تھا۔آخر انہوں نے یہ مشورہ کیا کہ اُن کی دعوت کی جائے اور بڑی عزت اور احترام کے ساتھ راجہ صاحب اُن کو بٹھا ئیں اور کھانا SERVE کیا جائے لیکن اُن کے شربت میں پینے کی جو چیز پیش کی جائے ، اُس میں زہر ہو اور اس طرح انہیں ماردیا جائے لیکن اُن کو بچوں نے ہی باپ کے خلاف آکے بات بتادی کہ اُن کا یہ پروگرام ہے۔انہوں نے ، اُن کے ساتھیوں نے کہا کہ آپ دعوت میں جانے سے انکار کر دیں۔انہوں نے کہا کہ کیوں انکار کر دوں۔میں تو جاؤں گا۔چنانچہ وہ دعوت میں چلے گئے۔اصل تو نشان اُن کا یہ تھا کہ خدا نے اُن کو اتنا اثر دیا تھا کہ جس شخص نے سازش کی ، اُسی کے بیٹے نے آکے سچی بات اُن کو بتادی۔تو یہ معجزہ تھا، وقت پر اطلاع ہو جانا۔تو کئی سو آدمی اُن کے ساتھ جا کے دستر خوان پر بیٹھ گئے۔اُس نے مشروب کا وہ پیالہ اُن کے سامنے پیش کر دیا۔اُنہوں نے وہ آرام سے اُٹھایا۔اُس کا ایک گھونٹ لیا اپنے ساتھی کو دے دیا۔اُس نے ایک گھونٹ لیا پھر تو وہ تبرک بن گیا ناں۔ہر ایک نے ایک گھونٹ لیا اور پیتا چلا گیا۔وہ زہر جو ایک آدمی کو قتل کر سکتا تھا وہ زہر دو سو آدمی کو نہیں مار سکتا تھا۔تو وہ اُس کے لئے نشان بن گیا۔تو ہر موقعہ اور محل کے مطابق وہ نشان ظاہر کرتا ہے۔نشان کوئی شعبدہ بازی نہیں کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں فرعون نے کہہ دیا تھا ناں کہ اچھا میں بھی جادو گر ا کٹھے کرتا ہوں تو اُن کے ساتھ مقابلہ ہو جائے۔وہ تو تماشا سمجھا تھا ناں۔اس تماشے کے اثر کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا نے زائل کر دیا۔تو میں بتا یہ رہا ہوں کہ زمانہ اپنے مزاج کے مطابق دلائل کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔نشانات کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔معجزات کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔اور ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ سے عشق رکھنے والے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں جو فانی لوگ ہیں، وہ دُعائیں یہ کرتے ہیں کہ اُن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنی قدرتوں کے نظارے دکھائے جن کو ہم معجزہ کہتے ہیں۔ورنہ اب یہ زمانہ بدل گیا کہ دنیا