تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 76
بوڑھے ہیں جو پہلوانی کے قابل نہیں رہے، وہ قیادت نہیں کر سکتے مگر ایک کے بعد دوسرا آ جاتا ہے۔تو چھوڑ دیتے ہیں میدان کو۔انصار اللہ جو ہیں اُن کا کام میدان چھوڑنا نہیں۔میدان صاف کرنا ہے۔ہمت ہارنی نہیں جو نسبتا کم تجربہ رکھنے والے، نسبتاً کم عمر والے ہیں۔اُن کے لئے آگے بڑھنے کی راہ کو زیادہ آسان بنانا ہے۔جیسا کہ مگ کی ڈار میں سب سے زیادہ مضبوط سمجھدار مگ جو ہے وہ آگے ہوتا ہے۔وہ لیڈ کرتا ہے۔وہ پچھلوں کے لئے سہولت پیدا کر دیتا ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ میں مختلف AGE GROUP بنادیئے گئے اور AGE GROUP کے لحاظ سے تنظیمیں بنا دی گئیں۔ان تنظیموں میں سب سے اہم ذمہ داری ، بعض لحاظ سے سب سے زیادہ مشکل ذمہ واری انصار اللہ پر ہے۔خدام الاحمدیہ میں بہت سے ایسے ہیں اور ہوتے رہیں گے کہ جن پر یہ ذمہ واری نہیں کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کا خیال رکھیں۔کیونکہ ابھی اُن کی شادی نہیں ہوئی۔سولہ سال کا خدام الاحمدیہ میں شامل ہو جاتا ہے۔تو اگر جلدی بھی شادی ہو تو ہیں سال کی عمر میں یا کم و بیش اٹھارہ بیس سال کی عمر میں ہونی چاہئیے۔ہمارے ہاں زیادہ عمر میں شادی کرنے کی بد رسم پڑ گئی ہے۔لیکن بہر حال خدام الاحمدیہ کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جس پہ یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت اس رنگ میں کریں جس رنگ میں ایک احمدی بچے کی تربیت ہونی چاہیے لیکن انصار اللہ میں اگر کوئی ایسا ہے کہ اُس کے بچے نہیں تو اُس کا استثناء یہ ہے کہ اُس کے بچوں کی تربیت اُس کے اوپر نہیں۔مثلاً بعض ایسے لوگ ہیں جن کے بچہ پیدا ہی نہیں ہوتا۔یہ ہزار میں سے ایک ہوتا ہے شاید دس ہزار میں سے ایک ہو۔اس میں خدا تعالیٰ کی شان ہے، جب نہیں دینا چاہتا نہیں دیتا۔کوئی زبر دستی تو انسان نے اس سے بچہ نہیں لینا۔دنیا پہ نگاہ ڈالیں ، شاید لاکھ میں سے ایک، ایسا جوڑا ہو جن کے ہاں اولاد نہیں ہوئی۔بہت ہی شاذ ایسے ہیں کہ جن کے سارے ہی بچے کسی ایکسیڈنٹ میں وفات پا جاتے ہیں۔یہ ذمہ داری کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کریں، اُن کی یہ ذمہ داری نہیں رہتی۔لیکن اکثریت اور قانون کے طور پر اُن کا مقام انسانی معاشرہ میں ایک ایسے انسان کا مقام ہے جس کے بچے ہیں اور جن کی تربیت کی ذمہ داری اُن پر ہے۔جن کے بچے ہیں وہ جب اپنی خدام کی عمر کو پہنچتے ہیں تو وہ خدام الاحمدیہ کے ممبر ہیں۔اس عمر میں خدام الاحمدیہ کا ایک چھوٹا سا حصہ، ایک دائرہ ایسا ہے جو ہر گھر میں اپنے باپ کی تربیت بھی لے رہا ہے اور اجتماعی طور پر سارے مل کے اپنے باپوں سے تربیت حاصل کر رہے ہیں۔انصار اللہ سے تربیت حاصل کر رہے ہیں کیونکہ اُن کے باپ جو ہیں وہ عام قاعدے کے مطابق انصار اللہ کے ممبر ہیں۔عام، میں نے اس لئے کہا کہ ایسے بھی ہو سکتے ہیں خدام، جن کے والدین احمدی نہیں۔انصار اللہ کے ممبر ہی نہیں۔اس واسطے