تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 74
۷۴ رہ گئے تو تبلیغ کیا ہو۔پہلے دس ہزار جماعت تھی اور سارے مبلغ تھے اس لئے تبلیغ خوب ہوتی تھی۔اب پانچ سات رہ گئے ہیں۔چھٹا یہ کہ اثر کم ہو گیا ہے۔پہلے ہر ایک کو یہ احساس تھا کہ میں کمزور ہوں۔اس لئے ہر احمدی دعائیں کرتا تھا۔اب کہتا ہے کہ جب کوئی اعتراض کرے گا تو مولوی کو بلالوں گا۔پہلے دعاؤں کی طرف توجہ تھی اور خدا پر نظر تھی اس لئے تبلیغ کا بڑا اثر ہوتا تھا۔اس لئے ضروری ہے کہ ہر جماعت میں تبلیغی سیکرٹری ہوں۔آگے اس کے مددگار ہوں۔مددگار مبلغ نہیں۔مبلغ تو ہر ایک ہوگا۔وہ اسسٹنٹ سیکرٹری ہوں گے۔سیکرٹری سب مذاہب کا مطالعہ کریں اور باقی ایک ایک مذہب کا مطالعہ کریں اور اگر زیادہ ہوں تو دود و نائب مقرر کریں اور ان لوگوں کا یہ فرض ہو کہ حضرت صاحب کی کتابیں پڑھیں۔اور اپنے اپنے صیغوں کی رپورٹیں بھیجیں اور پھر یہ اسی طرح سب سے کام لیں جس طرح چندہ لینے والا سب سے لیتا ہے اور ہر ایک سے تبلیغی رپورٹ لیں۔مبلغوں کے بلانے کا سلسلہ بند کیا جاوے۔کیا ہوا اگر شکست ہو جائے۔اگر کوئی کمزور ہے تو خود توجہ کرے۔پس ڈرنا چھوڑ دو۔ڈرنے سے نقصان ہو رہا ہے۔“ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ، فرض شناسی اور مستقل مزاجی کے ساتھ مسلسل محنت کرتے ہوئے ، حکمت کے تقاضوں کوملحوظ رکھتے ہوئے ، دردمندانہ دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اگر مجلس انصار اللہ کے عہدیداران کوشش کرتے چلے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ کبھی ان کی محنت کو ضائع نہیں فرمائے گا بلکہ توقع سے بہت بڑھ کر اور کوشش سے کہیں زیادہ ان کو اجر سے نوازے گا۔پس ہم اسی پر توکل کرتے ہیں۔اسی سے مدد مانگتے اور اسی سے نیک نتائج کی امید رکھتے ہیں۔“ ۲۷ سیدناحضرت خلیفہ مسیح اثبات کا مجلس کراچی سے اہم خطاب سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ۲ مارچ ۱۹۸۰ء کو کراچی کی مجلس انصار اللہ کے ممبران میں تشریف فرما ہوئے۔اس موقعہ پر آپ نے انصار اللہ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ایک آبی جانور منگ ہے۔جب یہ ڈار کی صورت میں پرواز کرتا ہے تو ایک بڑا منگ سب سے آگے ہوتا ہے، وہ اپنے ہم جنس قافلہ کی قیادت کرتا ہے۔کچھ عرصہ کے بعد جب وہ تھک جاتا ہے تو وہ اپنی پوزیشن نمبر ایک چھوڑ دیتا ہے اور پیچھے سے ایک اور منگ اُس کی جگہ قیادت کے لئے آجاتا ہے۔سب سے مشکل پرواز اس قائد منگ کی ہوتی ہے۔فرمایا انصار اللہ کی مثال اس گروہ کی ہے جو یکے بعد دیگرے آگے آتے اور LEAD کرتے ہیں۔یہ جماعت کے قائد ہیں۔اس سے پیچھے خدام الاحمدیہ ہیں۔انصار اللہ کی ذمہ داری ہے کہ یہ خدام کی راہ کو ہموار کریں