تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 73
۷۳ کامیاب ہوسکیں ، ہمیں یقینی طور پر علم ہو کہ کس کس شعبہ میں معین طور پر کتنا کام ہو چکا ہے اور کس کس شعبہ میں ہم کچھ نہیں کر سکے۔کچھ مجالس نے ان ہدایات پر عمل کیا اور فائدہ اٹھایا لیکن بہت سی مجالس ابھی تک اس ہدایت کو پوری طرح نہیں سمجھ سکیں۔ناظمین ملک اور ناظمین اعلیٰ اور ناظمین ضلع سے میں توقع رکھتا ہوں کہ امسال اس پہلو سے مجالس کی تربیت پر خاص توجہ دیں گے۔تربیت کا کام بہت ہی مشکل اور صبر آزما ہے۔ہاتھ پکڑ کر قدم قدم چلنا سکھانا ہوتا ہے اور مستقل مزاجی کی بہت ضرورت ہے۔دعا بھی کرتے رہیں کہ دعا کے بغیر ہمارا کوئی پروگرام کامیاب نہیں ہو سکتا۔گزشتہ سال مجالس نے رپورٹوں کی ترسیل کی طرف باوجود کوشش کے کماحقہ توجہ نہیں دی۔امسال اس حصہ کی طرف بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔تمام ناظمین ملک وضلع کو چاہیے کہ ایسی مجالس کی نام بنام فہرست تیار کریں جن سے رپورٹیں حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور ماہ بماہ اپنی کامیابی کا جائزہ لیتے رہیں۔سال گذشتہ کی طرح امسال بھی تبلیغ کے کام کی طرف خصوصی توجہ دینے کا پروگرام ہے اور ٹارگٹ یہ مقرر کیا گیا ہے کہ اگر تمام انصار فی الحال اس قابل نہیں ہو سکتے تو کم از کم ہر مجلس یہ کوشش کرے کہ امسال تبلیغ کے ذریعے ایک نئی مجلس کا قیام کر کے اپنی روحانی زندگی اور نشو ونما کا ثبوت دے۔اس ضمن میں حضرت اقدس مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک اقتباس پیش کرنے کے بعد اب اجازت چاہتا ہوں۔یہ اقتباس حضور کے ایک تنقیدی تجزیہ پر مشتمل ہے جس میں حضور نے جماعت کے اس رجحان کو سخت نقصان دہ قرار دیا ہے کہ تبلیغ کرنا گو یا صرف مبلغ کا کام ہے۔چنانچہ مبلغین کی کثرت کی وجہ سے انفرادی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی کو محسوس کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔موجودہ مبلغوں کی وجہ سے چند نقص پیدا ہو گئے ہیں۔پہلا سلسلہ کے لٹریچر سے لوگ ناواقف ہو گئے ہیں۔پہلے خود کتابیں پڑھتے تھے اور دلائل یا درکھتے تھے مگر اب یہ کام انہوں نے مبلغ کا سمجھ لیا ہے۔اگر ہر فرد تبلیغ کرے گا تو وہ مجبور ہو گا کہ دلائل یا در کھے اور اس کے لئے کتابیں پڑھے گا۔دوسرا یہ کہ تبلیغ کا مادہ کم ہو گیا ہے۔پہلے لوگ خوب واقف تھے۔تیسرا، آپس کے لڑائی جھگڑے پیدا ہو گئے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں۔فارغ ہیں، کام نہیں۔اگر ہر احمدی دشمنوں کے جمگھٹے میں گھرا ر ہے تو ایسا نہ ہو۔چوتھا، بزدلی پیدا ہو گئی ہے پہلے غیروں میں جاتے جو مارتے اور اس طرح ان میں جرات پیدا ہوتی۔اب مولویوں کا جتھہ بنا کر لے جاتے ہیں اور کوئی نہیں مارتا۔پانچواں، تبلیغ کم ہو گئی ہے۔جب تین