تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 72
۷۲ ١٩٨٠ء سال نو کے آغاز پر صدر محترم کا پیغام ۱۹۸۰ کے آغاز میں قائدین کی منظور شدہ سکیموں کی روشنی میں مجالس کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا گیا جو ہدایات“ کے نام سے مجالس کو بھجوایا گیا۔اس کے پیش لفظ کے طور پر صدر محترم نے 9 فروری ۱۹۸۰ء کوتحریر فرمایا۔"بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعَوْدِ مجلس انصار اللہ کے قیام کا مقصد اور لائحہ عمل تمام تر قرآن کریم کی اس چھوٹی سی آیت میں بیان ہو چکا ہے۔كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِينَ مَنْ أَنْصَارِى إِلَى اللهِ قَالَ الْحَوَارِثُونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ کہ جب عیسی ابن مریم نے اپنے حواریوں سے پوچھا کہ کون ہے جو خدا کا مددگار ہے تو حواریوں نے کہا۔ہم ہیں خدا کے مددگار ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے مراد اس کے رسول اور اس کے دین کی مدد کرنا ہے۔پس انصار اللہ کا کام مسیح ثانی کے عہد میں بھی وہی ہے جو مسیح اول کے وقت میں تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے دین کی مدد کرنا اور مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر تجدید عہد کر کے اس عہد کو نبھانا کہ ”ہم انصار اللہ ہیں ہمارا کام ہے۔پس ہر وہ نیک کام جس کی طرف وقت کا امام اللہ کے نام پر ہمیں بلائے ، اس میں دل و جان سے اپنے امام کی مدد کرنا انصار اللہ کا کام ہے۔موجودہ لائحہ عمل جو قائدین مرکزیہ نے بڑی توجہ سے تیار کیا ہے ، تمام تر ایسے ہی نیک کاموں پر مشتمل ایک عملی پروگرام ہے۔اور میں توقع رکھتا ہوں کہ جملہ انصار اللہ اس پر پوری طرح عمل پیرا ہونے کی مخلصانہ کوشش کریں گے۔انشاء الله تعالى و بالله التوفيق۔گذشتہ سال اس مقصد کو احسن رنگ میں پورا کرنے کی غرض سے مرکز کی طرف سے جو ہدایات جاری کی گئی تھیں، ان میں اس پہلو پر بہت زور تھا کہ ایسے کام کو با قاعدہ ایک تدبیر اور سکیم کے ماتحت چلائیں اور ر پورٹیں مضمون نگاری کے رنگ میں نہیں بلکہ اعداد شمار کی صورت میں مرتب کریں تا کہ نہ آپ کسی خوش فہمی میں مبتلا ر ہیں، نہ مرکز کسی غلط نہی میں۔جو قدم بھی ہم بفضل تعالیٰ آگے بڑھانے میں